بنگلہ دیش کے مرکزی بینک نے مالیاتی شعبے میں شفافیت کو بہتر بنانے اور مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے اپنے حکام پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ سرکولر کے مطابق اب مرکزی بینک کے افسران اور ملازمین ایسے کسی بھی تربیتی پروگرام، سیمینار، ورکشاپ یا سمپوزیم میں شرکت نہیں کر سکیں گے جس کے اخراجات کمرشل بینکوں یا دیگر مالیاتی اداروں نے برداشت کیے ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش بینک کے گورنر احسن ایچ منصور عہدے سے ہٹا دیے گئے
اس نئی پالیسی کے تحت بنگلہ دیش بینک کا عملہ مقامی یا غیر ملکی سطح پر منعقد ہونے والے ان پروگراموں میں بطور ٹرینر یا ٹرینی شامل نہیں ہو سکے گا جن کی فنڈنگ نجی بینکوں کی طرف سے کی گئی ہو۔
مزید برآں ایسے اداروں کی جانب سے اسپانسر کردہ بیرونِ ملک سیمینارز میں شرکت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے جو مرکزی بینک کو سامان یا خدمات فراہم کرتے ہیں یا خود وہاں سے خدمات حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں مالی بحران، مرکزی بینک نے 5 مالیاتی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا
تاہم، ضوابط میں ایک رعایت بھی دی گئی ہے جس کے مطابق ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کی پیشگی اجازت سے مرکزی بینک کے حکام ملکی سطح پر منعقدہ پروگراموں میں بطور سپیکر یا ٹرینر شرکت کرسکتے ہیں، اس صورت میں بھی ان کے لیے منتظمین سے کسی بھی قسم کا اعزازیہ وصول کرنا ممنوع ہوگا۔
سرکولر میں واضح کیا گیا ہے کہ حکام ایسے کسی بھی پروگرام کا حصہ بننے سے گریز کریں جہاں مالی معاوضہ مرکزی بینک کی سرگرمیوں کے ساتھ مفادات کا ٹکراؤ پیدا کرسکتا ہو۔ یہ نئی پالیسی فوری طور پر نافذ العمل کردی گئی ہے۔












