مشرق وسطی 2 حوالوں سے مسلم دنیا کے لیے بے حد حساسیت رکھتا ہے۔ ایک تو اسرائیل کے سبب جس کے شہری وہ اجنبی گھس بیٹھیے ہیں جنہیں یورپ سے لاکر مسلم دنیا پر غنڈہ گردی کے لیے مسلط کیا گیا۔ جبکہ دوسری حساسیت اس کی یہ ہے کہ مسلم دنیا کی شیعہ سنی ٹیکٹونک پلیٹس اسی خطے میں پائی جاتی ہیں۔
انقلاب کے بعد والا ایران ایک ایسا ایران تھا جو انقلاب ایکسپورٹ کرنے کی حکمت عملی بھی رکھتا تھا جس سے یہ تاریخی حساسیت مزید بڑھ گئی۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ لگ بھگ 45 سال تک امریکا نے ہی اٹھایا۔ اس نے عرب دنیا کے لیے بیک وقت اسرائیل و ایران کی صورت 2،2 خطرات کو خوب ہوا دی۔ اور اس کی آڑ میں اپنے مفادات حاصل کرتا رہا۔
لیکن مارچ 2023 میں سعودی عرب اور ایران نے بیجنگ معاہدے کی صورت ایک غیر معمولی سرپرائز دے کر صورتحال میں ایک ڈرامائی تبدیلی کردی۔ یہ معاہدہ چونکہ بے حد راز داری میں ہوا تھا اور کسی کو کانوں کان بھی خبر نہ ہوسکی تھی کہ بیجنگ میں مذاکرات کا کوئی سلسلہ چل رہا ہے، سو یہ سرپرائز امریکا اور اسرائیل کے لیے تو کسی صورت بھی خوشگوار نہ تھا۔ بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے تو یہ بہت بڑا دھچکا تھا جو اپنے پہلے دور اقتدار میں سرتوڑ کوشش کرتے رہے کہ سعودی عرب ابراہیمی معاہدہ سائن کرکے اسرائیل سے دوستی کرلے۔ لیکن سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے ایران سے مصالحت کرکے امریکی اسکیم ہی تہہ و بالا کردی۔ یہ محمد بن سلمان کی جانب سے اس بات کا پہلا اظہار تھا کہ وہ اپنے پیشروؤں کی طرح محض نظریاتی خطوط پر نہیں سوچتے بلکہ اسٹریٹیجک اپروچ رکھنے والے لیڈر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قصہ میگناکارٹا کا !
ایسے میں جب ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملہ ہوا تو خطے میں ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ ایران تو ظاہر ہے حالت جنگ میں آگیا تھا سو ہر نظر سعودی عرب پر فوکس ہوگئی کہ وہ کیا کرتا ہے؟۔ اس حوالے سے جنگ کا ابتدائی ہفتہ شدید قسم کی بے یقینی کا رہا۔ سعودی کہہ کچھ نہیں رہے تھے مگر کچھ علامات ایسی ضرور نظر آ رہی تھیں جن سے واضح ہوتا چلا جا رہا تھا کہ سعودی عرب بیجنگ ایگریمنٹ کو ہر حال میں بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مثلا ایرانی میزائل حملوں کے باوجود سعودی عرب میں کوئی بڑی فوجی مومنٹ یا ہنگامی مشاورتوں جیسی صورتحال نظر نہیں آرہی تھی۔ اس کے بالکل برعکس سعودی وزیر خارجہ زیادہ فعال تھے۔
جب عین دوران جنگ کسی ملک کی ملٹری کورز کی بجائے ڈپلومیٹک کور فعال ہو نظر آئے تو اس کا بس ایک ہی مطلب ہوتا ہے، اور وہ یہ کہ یہ ملک جنگ نہیں اس سے بچاؤ کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔چنانچہ یہی سگنل تھا جس کی بنیاد پر ہم نے پورے اعتماد کے ساتھ لکھا تھا کہ مشرق وسطی کو بڑی تباہی سے بچانے، اور اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دینے میں سعودی عرب کا کردار کلیدی ہے۔ مگر ہمارا وہ لکھا کسی خبر یا اطلاع کی بنیاد پر نہ تھا بلکہ وہ محض ایک تجزیہ کار کی سچویشن ریڈنگ تھی، جو غلط بھی ثابت ہوسکتی تھی۔ اب جاکر اس ریڈنگ پر مہر تصدیق ثبت ہوئی ہے تو اطمینان نے دل میں ہر سو بسیرا کرلیا ہے۔
تصدیق کی صورت یہ بنی ہے کہ 3 روز قبل سابق سعودی انٹیلی جنس چیف پرنس ترکی الفیصل کا ایک انگریزی مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ’This is how Crown Prince Mohammed bin Salman succeeded‘ اس مضمون کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں وہ سب بغیر کسی لاگ لپیٹ کے واضح کردیا گیا ہے جو بوجوہ سعودی آفیشلی نہیں کہہ سکتے۔ جیو پولیٹکس میں اہم ممالک ایسا بند وبست رکھتے ہیں کہ اگر کوئی بات آفیشلی نہ کہنی ہو تو ایسے سابق اہم ترین افراد سے کہلوا دی جاتی ہے جن کی بات حکومت کا آفیشل موقف بھی نہیں ہوتی اور بات پہنچ بھی جاتی ہے۔ مثلا چائنا میں یہ رول ڈاکٹر وکٹر گاؤ کو تفویض ہے۔
پرنس ترکی الفیصل کا یہ مضمون اس لحاظ سے بے حد اہم ہے کہ اس سے سعودی سوچ بالکل واضح ہوکر سامنے آگئی ہے جو اس خطے کے باشندوں کے لیے نہایت قابل اطمینان ہے۔ پرنس ترکی نے اپنے مضمون میں حالیہ جنگ کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے اسے شدید تنقید کا ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ واضح طور پر لکھا ہے کہ اسرائیل کی سازش یہ تھی وہ ایران اور عرب دنیا میں تصادم کروا کر پورے خطے کو تباہ کرنا چاہتا تھا۔ جس سے اسرائیل خطے کی واحد بالادست قوت کے طور پر ابھرتا اور اپنے سارے خواب پورے کرتا۔ اگر ایسا ہوجاتا تو دونوں طرف لاکھوں کی تعداد میں بیٹے اور بیٹیاں ماری جاتیں، لیکن مقاصد صرف اسرائیل کے پورے ہوتے۔
ایسا نہ ہوپانے کا کریڈٹ وہ سیدھا سیدھا سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کو دیتے ہوئے لکھتے ہیں، یہ محمد بن سلمان تھے جنہوں نے ہر دباؤ کو مسترد کیا اور ایران پر حملے میں حصہ نہ لیا۔ بلکہ اس کے برخلاف انہوں نے اپنے دفتر خارجہ کو فعال کردار سونپا کہ وہ جنگ بندی اور امن کی راہیں تلاش کرے۔ وہ لکھتے ہیں، کئی حلقے توقع کر رہے تھے کہ سعودی عرب کھل کر ایران مخالف اتحاد میں شامل ہوگا۔لیکن سعودی قیادت نے جذباتی یا فوری ردِعمل دینے کی بجائے طویل المدتی نتائج کو اہمیت دی۔ یوں سعودی قیادت نے ریاستی مفاد کو جذباتی نعروں پر ترجیح دی۔
مزید پڑھیے: 7مئی: انڈیا تین میں، نہ تیرہ میں
ترکی الفیصل نے محمد بن سلمان پر بھی خاصا فوکس کیا ہے۔ مگر یہ روایتی قسم کی تعریفی جملے بازی نہیں بلکہ وہ دنیا کو یہ بتاتے نظر آرہے ہیں کہ محمد بن سلمان ماضی کی عرب قیادت سے یکسر مختلف ہیں۔مثلا وہ لکھتے ہیں، کہ محمد بن سلمان روایتی عرب سیاست سے ہٹ کر ایک مختلف انداز اختیار کر رہے ہیں۔ وہ صرف نظریاتی یا جذباتی سیاست کے بجائے اقتصادی اور تزویراتی سوچ رکھتے ہیں، اور سعودی عرب کو مستقبل کی طاقت بنانا چاہتے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ محمد بن سلمان کی یہ باقاعدہ سوچ ہے کہ مسلسل جنگیں، پراکسی تنازعات، اور علاقائی محاذ آرائیاں سعودی عرب کے وژن 2030 کو تباہ کرسکتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بحال رکھے، چین کی ثالثی میں تعلقات بہتر کیے، اور علاقائی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے موجودہ جنگ کے دوران اسرائیلی ’جال‘ میں پھنسنے سے انکار کیا۔
ایک بے حد اہم چیز پرنس ترکی نے یہ واضح کی ہے کہ سعودی عرب اب محض امریکی پالیسی پر چلنے والا ملک نہیں رہنا چاہتا۔ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، مگر اب وہ اپنی قومی ترجیحات خود طے کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ چین کے ساتھ قریبی تعلقات، روس کے ساتھ تعاون، اور متوازن سفارتکاری اسی نئی سعودی سوچ کی ہی عکاسی کرتی ہے۔یعنی کئی طاقتوں کے ساتھ بیک تعلقات کی سوچ۔
مضمون کا شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ شہزادہ ترکی ’طاقت‘ کو صرف فوجی طاقت کے معنی میں نہیں دیکھتے۔ ان کے مطابق حقیقی طاقت یہ ہے کہ ملک معاشی طور پر مضبوط ہو، عوام خوشحال ہوں، ریاست مستحکم ہو اور جنگ سے بچا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے محمد بن سلمان کی کامیابی عرب ایران جنگ نہ ہونے دینا قرار دیا، نہ کہ جنگ جیتنا۔
ترکی الفیصل کے پورے مضمون سے تین بڑے پیغامات سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ سعودی عرب اب زیادہ خودمختار خارجہ پالیسی چاہتا ہے۔ یعنی نہ مکمل امریکی لائن، نہ مکمل ایرانی یا کسی اور بلاک کی سیاست۔ دوسرا یہ کہ موجودہ سعودی قیادت معاشی تبدیلی کو جنگی سیاست پر ترجیح دے رہی ہے اور وژن 2030 اس سوچ کا مرکز ہے۔ تیسرا پیغام یہ کہ خطے میں نئی طاقت کی سیاست اب صرف فوجی نہیں بلکہ اقتصادی بھی ہے اور سعودی عرب خود کو اسی نئی ترتیب میں مرکزی کردار کے طور پر منظم کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی دبدبہ
پرنس ترکی الفیصل کے مضمون کے یہ تمام اہم نکات ہم نے آپ کے سامنے اس غرض سے رکھے ہیں کہ اس میں سعودی سوچ کو بہت ہی واضح غیر مبہم انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ اگر یہ نکات ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیے جائیں تو اس سے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے دوران بھی سعودی سمت اور اپروچ سے متعلق درست اندازے بہ آسانی لگائے جاسکیں گے۔ اس مضمون نے خود ہمیں جو اطمینان مہیا کیا ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب ایران سے کسی تصادم کی کوئی سوچ نہیں رکھتا۔ نیا سعودی عرب تجارتی و سفارتی تعلقات کو ہی اپنی ترجیح بنا کر چلنا چاہتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔










