پاکستان میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر جمع ہونے والی قربانی کے جانوروں کی کھالیں ایک بڑے معاشی اور سماجی نظام کا حصہ بنتی ہیں۔ ان کی منزل عموماً فلاحی ادارے، مدارس اور کھالوں کے بیوپاری ہوتے ہیں۔
پاکستان میں کھالوں کی ایک بڑی تعداد فلاحی تنظیموں، مدارس اور اسپتالوں کو عطیہ کر دی جاتی ہے۔ یہ ادارے ان کھالوں کو جمع کرکے بڑے تاجروں یا ٹینریز (چمڑا سازی کے کارخانوں) کو فروخت کرتے ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم یتیم بچوں کی کفالت، غریبوں کے علاج اور مدارس کے اخراجات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
کھالوں کے تاجر اور منڈیاں
عید کے دنوں میں جگہ جگہ کھالیں خریدنے والے بیوپاری موجود ہوتے ہیں۔ جو لوگ کھالیں عطیہ نہیں کرتے، وہ انہیں مقامی بیوپاریوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ بیوپاری کھالوں کو محفوظ بنانے کے لیے ان پر نمک لگاتے ہیں تاکہ وہ خراب نہ ہوں، اور پھر انہیں شہر کی بڑی منڈیوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
ٹینریز (Tanneries)
کھالوں کی آخری منزل ٹینریز ہوتی ہیں، جو زیادہ تر قصور، کراچی اور سیالکوٹ میں واقع ہیں۔ یہاں کھالوں کو کیمیکلز کے ذریعے صاف کرکے چمڑے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے قربانی کی کھالیں کیسے کراچی میں گینگ وار کا سبب بنتی رہی ہیں؟
قربانی کی کھالوں کو جب ٹینریز میں پراسیس کرکے چمڑے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے تو اس میں سے اعلیٰ گریڈ کا چمڑا بیرونِ ملک برآمد کیا جاتا ہے، جو قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ بنتا ہے، جبکہ بی اور سی گریڈ کا چمڑا مقامی مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے، جس سے کئی طرح کی قیمتی اور پائیدار اشیا تیار کی جاتی ہیں۔
ملبوسات اور فیشن
پاکستانی چمڑا اپنی نرمی اور پائیداری کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، جس سے مختلف اقسام کی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ چمڑے کی جیکٹس اور کوٹ خاص طور پر بھیڑ اور بکری کی کھال سے تیار کیے جاتے ہیں۔
اسی چمڑے سے صنعتی استعمال کے حفاظتی دستانے، سردیوں میں پہنے جانے والے فیشن ایبل دستانے، ٹوپیاں، پینٹس، اعلیٰ معیار کے ڈیزائنر ملبوسات اور جوتے بھی بنائے جاتے ہیں۔
چمڑے کا سب سے بڑا استعمال جوتوں کی صنعت میں ہوتا ہے، جس میں رسمی جوتے، مردانہ و زنانہ سینڈلز، بوٹ، چپل، فٹ بال اور دیگر کھیلوں کے لیے مخصوص مضبوط جوتے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے قربانی کے جانوروں کی کھالیں ڈالر کمانے کا ذریعہ کیسے بنتی ہیں؟
سفری اور ذاتی استعمال کی اشیا میں لیڈیز ہینڈ بیگز، لیپ ٹاپ بیگز اور سفری سوٹ کیس بھی چمڑے سے تیار کیے جاتے ہیں۔ چمڑے کا کترن بھی ضائع نہیں جاتا بلکہ اس سے بٹوے (Wallets) اور بیلٹس بنائی جاتی ہیں۔
جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اب چمڑے کے موبائل اور لیپ ٹاپ کورز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ کھیلوں کے سامان کی بات کی جائے تو پاکستان، خصوصاً سیالکوٹ، اس صنعت کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں اعلیٰ معیار کے فٹ بال آج بھی چمڑے کی تہوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ کرکٹ گیند پر چڑھایا جانے والا سخت چمڑا بھی قربانی کے جانوروں کی کھال سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ باکسنگ گلوز کی مضبوطی اور تحفظ کے لیے بھی چمڑے کا استعمال کیا جاتا ہے۔
فرنیچر اور سجاوٹ
لگژری فرنیچر کی پوشش (Covers) کے لیے بڑے جانوروں کا چمڑا استعمال ہوتا ہے۔ مہنگی گاڑیوں کے لیدر انٹیریئر (Leather Interior) میں بھی یہی چمڑا کام آتا ہے۔ ڈھول، طبلہ اور دف کی اوپری سطح جانوروں کی پتلی کھال سے تیار کی جاتی ہے۔
گائے اور بیل کی کھال عموماً سخت مصنوعات، جیسے جوتے، فٹ بال اور فرنیچر کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ بکری اور بھیڑ کی کھال نرم مصنوعات، مثلاً جیکٹس اور دستانے، بنانے کے کام آتی ہے۔













