عالمی ادارہ صحت کے افریقہ ریجنل ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو ہرگز کم نہ سمجھا جائے، کیونکہ صرف ایک متاثرہ کیس بھی بیماری کو ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو سے باہر پھیلا سکتا ہے۔
“Why are we flatfooted again?” A decade after the West Africa Ebola epidemic reshaped global preparedness, a rare strain is revealing how much of that system was built for a different threat. https://t.co/QZz4XG4yXZ
— Bloomberg (@business) May 22, 2026
ڈائریکٹر کے مطابق ایبولا کی حالیہ وبا میں اب تک 670 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 160 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ 61 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔ ہمسایہ ملک یوگنڈا میں بھی دو کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائرس کی اس قسم (بنڈی بگیو) کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین موجود نہیں، اس لیے صورتحال کو معمولی سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:ایبولا اور ہنٹا وائرس کے خطرات، سعودی عرب نے زائرین کے تحفظ کے لیے ہائی الرٹ جاری کردیا
عالمی ادارے کے مطابق ایک کیس بھی عالمی سطح پر بڑے خطرے کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے فوری توجہ اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق اس وبا کی شدت اور مدت کا ابھی مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی بڑی نقل و حرکت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
This week: From scaling up Ebola response in DRC, to reaching isolated communities in South Sudan, pre-positioning aid ahead of floods in East Africa – rapid action can save lives.
With funding at just over 30% of what’s needed, much more support is urgently required. pic.twitter.com/f9tXiCBm5W
— UN Humanitarian (@UNOCHA) May 22, 2026
عالمی ادارہ صحت نے متاثرہ علاقوں میں ٹیسٹنگ، حفاظتی اقدامات اور عوامی آگاہی مہم کو مزید تیز کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ بعض مقامات پر غلط معلومات اور عوامی بداعتمادی بھی بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
حکام کے مطابق وبا کے ابتدائی مریض کی نشاندہی ابھی تک نہیں ہو سکی، جو اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ایک اہم مرحلہ ہے۔














