ایبولا کا ایک کیس بھی عالمی خطرہ بن سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

ہفتہ 23 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی ادارہ صحت کے افریقہ ریجنل ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو ہرگز کم نہ سمجھا جائے، کیونکہ صرف ایک متاثرہ کیس بھی بیماری کو ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو سے باہر پھیلا سکتا ہے۔

ڈائریکٹر کے مطابق ایبولا کی حالیہ وبا میں اب تک 670 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 160 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ 61 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔ ہمسایہ ملک یوگنڈا میں بھی دو کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائرس کی اس قسم (بنڈی بگیو) کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین موجود نہیں، اس لیے صورتحال کو معمولی سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:ایبولا اور ہنٹا وائرس کے خطرات، سعودی عرب نے زائرین کے تحفظ کے لیے ہائی الرٹ جاری کردیا

عالمی ادارے کے مطابق ایک کیس بھی عالمی سطح پر بڑے خطرے کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے فوری توجہ اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق اس وبا کی شدت اور مدت کا ابھی مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی بڑی نقل و حرکت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے متاثرہ علاقوں میں ٹیسٹنگ، حفاظتی اقدامات اور عوامی آگاہی مہم کو مزید تیز کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ بعض مقامات پر غلط معلومات اور عوامی بداعتمادی بھی بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

حکام کے مطابق وبا کے ابتدائی مریض کی نشاندہی ابھی تک نہیں ہو سکی، جو اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ایک اہم مرحلہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp