مریم نواز کی ہدایت: گردوں کے مرض میں مبتلا 2 بچے ایئر ایمبولینس کے ذریعے چلاس سے لاہور منتقل

اتوار 17 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر گلگت بلتستان کے ضلع چلاس سے تعلق رکھنے والے 2 مریض بچوں کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے لاہور منتقل کردیا گیا۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے مطابق چلاس سے تعلق رکھنے والے 12 سالہ ثنااللہ اور 14 سالہ عطااللہ موروثی گردوں کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے حکم پر ریسکیو 1122 کی 2 گاڑیاں خصوصی طور پر چلاس روانہ کی گئیں تاکہ دونوں بچوں کو فوری طور پر ریسکیو کیا جا سکے۔

بعد ازاں دونوں مریض بچوں کو مکمل نگہداشت کے ساتھ لاہور کے پی کے ایل آئی (پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ) منتقل کردیا گیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق پی کے ایل آئی میں ڈاکٹرز کی خصوصی ٹیم دونوں بچوں کا مکمل علاج اور نگہداشت کرے گی۔

عظمیٰ بخاری نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا وژن عوام کی بلا تفریق خدمت ہے، اور چلاس کے بچوں کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے منتقلی اسی وژن کا عملی اظہار ہے۔

انہوں نے کہاکہ مریم نواز انسانیت کی خدمت کو سیاست سے بالا تر رکھتی ہیں اور حکومت اسی جذبے کے تحت عوامی خدمت جاری رکھے ہوئے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘