جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے حوالے سے اپنی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے محاذ آرائی کے بجائے پرامن بقائے باہمی اور اعتماد سازی پر توجہ مرکوز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
مزید پڑھیں: جنوبی کوریا میں شرحِ پیدائش میں معمولی اضافہ، حکومتی مراعات اور بدلتے رجحانات اہم سبب قرار
جنوبی کوریا کی وزارتِ اتحاد کی جانب سے جاری وائٹ پیپر میں سابق صدر یون سک یول کے دور کی سخت گیر پالیسیوں سے ہٹ کر شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران، اسرائیل جنگ کے اثرات کم کرنے کی کوشش، جنوبی کوریا کا شہریوں کو بڑا ریلیف
رپورٹ کے مطابق نئی حکمتِ عملی کے تحت پیانگ یانگ کے ساتھ اعتماد سازی، رابطوں میں بہتری اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کو ترجیح دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اس پالیسی تبدیلی کو جزیرہ نما کوریا میں تناؤ کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔













