’کم عمر لڑکی‘ سے نامناسب گفتگو پر ٹیچر گرفتار، سزا لاگو ہونے پر اختلاف رائے، جانیے کیسے؟

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس میں ایک ریٹائرڈ اسپورٹس ٹیچر کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ ایک ایسی ’14 سالہ لڑکی‘ سے آن لائن گفتگو کرتے پکڑا گیا جو 14 سالہ تو لڑکی ہی نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: گروک پر بچوں کی نامناسب تصاویر بنوانے والے صارفین کو سخت نتائج بھگتنے کی وارننگ

حقیقت میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے تیار کردہ جعلی کردار تھا۔

یہ کارروائی ایک معروف فرانسیسی انفلوئنسر نے کی جو خود کو بچوں کے استحصال میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے والا سماجی کارکن قرار دیتا ہے۔

66 سالہ سابق استاد جس کی شناخت ’ڈومینیک بی‘ کے نام سے کی گئی ہے مشرقی فرانس میں خود پولیس کے سامنے پیش ہوگیا۔ اس سے ایک روز قبل اس کی گفتگو مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر نشر کی گئی تھی۔

ویڈیو میں اسکرین کے ایک حصے میں ڈومینیک بی بیٹھا دکھائی دیتا ہے جبکہ دوسری جانب انفلوئنسر موجود تھا جس پر اے آئی کے ذریعے کم عمر لڑکی کا چہرہ اور آواز لگائی گئی تھی۔

مزید پڑھیے: جن بوتل سے باہر: غزہ پر آواز اٹھانے کی سزا ملی، ایلون مسک مجھے سنسر کر رہے ہیں، چیٹ بوٹ گروک بول پڑا

اگرچہ ویڈیو مکمل طور پر حقیقت جیسی نہیں تھی تاہم سابق استاد بظاہر یہ سمجھتا رہا کہ وہ ایک حقیقی 14 سالہ لڑکی سے بات کر رہا ہے۔

لاکھوں افراد نے ویڈیو دیکھی

تقریباً 40 منٹ کی اس گفتگو کو لائیو 40 ہزار سے زائد افراد نے دیکھا جبکہ بعد میں اسے تقریباً 10 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

گفتگو کے دوران ڈومینیک بی نے مبینہ طور پر پیرس میں ملاقات کی تجویز دی، لڑکی سے ایک نامناسب فرمائش کی، ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھے اور غیرموزوں گفتگو کی۔

مزید پڑھیں: سپر ایپ کے تصور کی جانب بڑا قدم: اوپن اے آئی کا جی پی ٹی 5.5 ماڈل متعارف

جب اسے یاد دلایا گیا کہ ’لڑکی‘ صرف 14 سال کی ہے تو اس نے مبینہ طور پر اس اعتراض کو اہمیت نہیں دی۔

پولیس تک معاملہ کیسے پہنچا؟

لائیو نشریات دیکھنے والے بعض افراد نے سابق استاد کو پہچان لیا اور فرانس کے سرکاری آن لائن رپورٹنگ پلیٹ فارم  فیروس کو اطلاع دی۔

یہ بھی پڑھیے: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو

تاہم پولیس کارروائی سے پہلے ہی ڈومینیک بی خود قریبی پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔

ویسول کے سرکاری پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم پر 15 سال سے کم عمر فرد کو جنسی نوعیت کی پیشکش کرنے اور کم عمر فرد سے فحش مواد طلب کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

فرانس میں نئی بحث

یہ واقعہ فرانس میں اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ آیا ایسے سیٹیزن ویجیلانٹے طریقے درست ہیں یا نہیں۔

واضح رہے کہ سیٹیزن ویجیلانٹے سے مراد وہ عام افراد ہوتے ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسے پولیس یا عدالت کے بجائے خود ہی کسی مبینہ جرم یا غلط عمل کے خلاف کارروائی کرنے، مجرموں کو بے نقاب کرنے یا انہیں پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ایسے معاملات کی تفتیش اور فیصلہ کرنا اصل میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

انفلوئنسر فِنی زی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بچوں کے استحصال کے مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرنا ہے۔

تاہم بعض قانونی ماہرین نے ان طریقوں پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی عوامی کارروائیاں پولیس تحقیقات میں مداخلت کا سبب بن سکتی ہیں یا محض سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب فرانس کی بعض سیاسی شخصیات نے انفلوئنسر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے کو ایسے جرائم کے خلاف متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔

اہم قانونی سوال

ماہرین کے مطابق اس کیس میں ایک اہم قانونی سوال یہ ہوگا کہ چونکہ حقیقت میں سامنے کوئی کم عمر لڑکی موجود نہیں تھی بلکہ ایک اے آئی سے تیار کردہ جعلی کردار تھا اس لیے عدالت اس معاملے کو کس زاویے سے دیکھے گی۔

مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام سامنے آنے پر کانگریس کی تنقید، حکومت کی سخت تردید

تاہم فرانسیسی حکام کے مطابق آن لائن گفتگو کا مواد اور مبینہ نیت قانونی کارروائی کے لیے اہم بنیاد بن سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp