بھارت کا 9 ارب ڈالر میگا پورٹ منصوبہ: نایاب جزیرے پر مقامی آبادی، ثقافت اور ماحولیات شدید خطرے سے دوچار

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت نے بحرِ ہند کے اہم اور دور دراز جزیرے گریٹ نکوبار پر 9 ارب ڈالر کے بڑے میگا پورٹ، ایئرپورٹ اور نئے شہر کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا ہے جس پر ماحولیات اور مقامی آبادی کے حقوق کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری اب پریشان خیالی میں بدل چکی، سابق سفارتکار مسعود خان

اے ایف پی کے مطابق یہ منصوبہ اس جزیرے پر بنایا جا رہا ہے جو بحیرۂ انڈمان میں واقع ہے اور جہاں گھنے جنگلات، مرجان کی چٹانیں اور نایاب انواع پائی جاتی ہیں۔ حکومتی منصوبے کے مطابق اس ترقیاتی منصوبے میں بندرگاہ، ہوائی اڈے، سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے شامل ہوں گے جبکہ اسے خطے کی اقتصادی ترقی اور بحری تجارت کے مرکز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ خطے کو بحیرۂ ہند میں ایک اہم تجارتی اور اسٹریٹجک مرکز بنائے گا خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کی بڑی تجارت آبنائے ملاکا جیسے اہم راستوں سے گزرتی ہے۔

وزیر اعظم  نریندر مودی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں میری ٹائم اور ایئر کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنائے گا اور اسے قومی دفاع اور اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے۔

اسٹریٹجک اہمیت

یہ جزیرہ جنوب مشرقی ایشیا کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے بھارت کے لیے عسکری لحاظ سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئے ایئرپورٹس اور بندرگاہیں سویلین اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی جبکہ بعض موجودہ رن ویز کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

ماحولیات اور مقامی آبادی کے خدشات

منصوبے پر ماحولیاتی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت اعتراضات کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جزیرے کا بڑا حصہ ابھی تک کم دریافت شدہ جنگلات پر مشتمل ہے اور وہاں نایاب حیاتیاتی نظام موجود ہے۔

تنقید کرنے والوں کے مطابق جزیرے کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی منصوبے کے لیے صاف کیا جائے گا، جس سے قدرتی ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حقوق کی تنظیم ’سرائیول انٹرنیشنل‘ نے خبردار کیا ہے کہ مقامی قبائلی آبادی اپنی زمینوں اور ثقافت کے خاتمے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔

جزیرے میں تقریباً 1200 مقامی افراد آباد ہیں جن میں ایسے قبائل بھی شامل ہیں جو بیرونی دنیا سے بہت محدود رابطہ رکھتے ہیں۔

حکومتی مؤقف

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے میں ماحولیاتی اصولوں کا خیال رکھا گیا ہے اور مقامی آبادی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

ماحولیاتی عدالت نے بھی ابتدائی طور پر منصوبے پر اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ قومی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

ماحولیات کے وزیر بھوپیندر یادو کے مطابق یہ منصوبہ نہ تو قبائلی آبادی کو خطرے میں ڈالتا ہے اور نہ ہی علاقے کی حساس ماحولیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اقتصادی منصوبہ اور مستقبل

منصوبے کے پہلے مرحلے میں ایک بڑے کنٹینر پورٹ اور ایئرپورٹ کی تعمیر شامل ہے جسے چند سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ بندرگاہ مستقبل میں خطے کی بڑی تجارتی بندرگاہوں کا مقابلہ بھی کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: 2025 میں ہجرت کے راستوں پر 7,900 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے، اقوام متحدہ

حکومت کے مطابق جزیرے کی آبادی اور سیاحت دونوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے تاہم ناقدین اسے ماحولیاتی اور سماجی طور پر خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

تنازع اور مخالفت

ماہرین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف جنگلات ختم ہوں گے بلکہ مقامی ثقافت اور طرز زندگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض مقامی رہائشیوں نے زمین کے حصول اور معاوضے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp