بحیرہ انڈمان میں کشتی الٹنے سے 250 سے زیادہ رونگیا پناہ گزین اور بنگلہ دیشی شہری لاپتا ہوگئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے بحیرہ انڈمان میں روہنگیا پناہ گزینوں اور بنگلہ دیشی شہریوں سے بھری ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں بچوں سمیت تقریباً 250 افراد کے لاپتا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیبیا کے قریب کشتی حادثہ، 6 پاکستانی جاں بحق ہونے کا خدشہ
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق یہ ٹرالر بنگلہ دیش کے جنوبی علاقے ٹیکناف سے ملائیشیا کے لیے روانہ ہوا تھا، جو سمندر میں تند و تیز ہواؤں، بپھری ہوئی لہروں اور گنجائش سے زیادہ افراد سوار ہونے کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس بدقسمت کشتی پر تقریباً 280 افراد سوار تھے جو 4 اپریل کو بنگلہ دیش سے روانہ ہوئے تھے۔
بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ کے ترجمان لیفٹیننٹ کمانڈر شبیر عالم سوجن نے بتایا کہ انڈونیشیا جانے والے ایک مال بردار بحری جہاز ’ایم ٹی میگھنا پرائیڈ‘ نے 9 اپریل کو گہرے سمندر میں کچھ لوگوں کو تیرتے ہوئے دیکھا، جس کے بعد 9 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روہنگیا مسلمانوں کو سمندر برد کرنے پر اقوام متحدہ کی بھارت سے جواب طلبی
زندہ بچ جانے والے ایک 40 سالہ شخص رفیق الاسلام نے بتایا کہ انسانی اسمگلروں نے انہیں ملائیشیا میں ملازمت کا جھانسہ دے کر کشتی پر سوار کیا تھا اور وہ حادثے کے بعد تقریباً 36 گھنٹوں تک لکڑی کے تختوں کے سہارے سمندر میں تیرتے رہے۔
واضح رہے کہ میانمار میں جاری خانہ جنگی اور جبر و ستم سے تنگ آ کر ہر سال ہزاروں روہنگیا مسلمان اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر سمندر کے راستے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ تازہ واقعہ بے گھری کے طویل سلسلے اور روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے مستقل حل کی عدم موجودگی کا المناک نتیجہ ہے۔ ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ میانمار میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ یہ پناہ گزین عزت و وقار کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 53 تارکین وطن ہلاک اور لاپتا
گزشتہ برس بھی مئی کے مہینے میں میانمار کے ساحل کے قریب دو کشتیوں کو پیش آنے والے حادثات میں 427 روہنگیا مسلمان جان کی بازی ہار گئے تھے۔














