برطانیہ میں شاہی خاندان کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں کے ڈیوٹی کے دوران سونے اور غفلت برتنے کے انکشاف پر اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ہنگامی تحقیقات شروع کردی ہیں، جس کی اطلاع کنگ چارلس کو بھی دے دی گئی ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق میٹرپولیٹن پولیس کے ‘رائلٹی اینڈ اسپیشلسٹ پروٹیکشن یونٹ’ کے تقریباً 30 اہلکاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر پیشہ ورانہ بدعملی کی شکایات پر انکوائری کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہی رہائش گاہ ’سینڈرنگھم اسٹیٹ‘ کے دروازے سیاحوں کے لیے کھل گئے؛ پہلی بار شاہ چارلس کے بیڈ روم کا دورہ
رپورٹ کے مطابق ان اہلکاروں پر نہ صرف ڈیوٹی کے دوران سونے یا بغیر اجازت اپنی پوسٹ چھوڑنے کا الزام ہے، بلکہ کچھ اہلکاروں کے بارے میں یہ شکایات بھی ملی ہیں کہ انہوں نے حاضری تو لگائی لیکن ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی میں غفلت کے یہ زیادہ تر واقعات ونڈسر کیسل (ونڈسر محل) میں پیش آئے۔

اس معاملے پر بادشاہت مخالف گروپ ‘ریپبلک’ نے پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک طنزیہ بیان جاری کیا ہے۔ گروپ نے شاہی خاندان کی سیکیورٹی کے معاملے پر پولیس کی فوری پھرتیوں کا موازنہ کنگ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے خلاف سست روی سے ہونے والی کارروائی سے کیا ہے۔
ریپبلک کا کہنا ہے کہ میٹرپولیٹن پولیس نے اس معاملے پر فوری طور پر ‘ہنگامی تحقیقات’ شروع کردیں، لیکن بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ روابط پر پرنس اینڈریو کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے عوام کو برسوں دباؤ ڈالنا پڑا، جو کہ ایک عجیب رویہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ‘میری والدہ کو نوجوان شاہ چارلس پر کرش تھا،’ ٹرمپ کے انکشاف پر شاہ برطانیہ بھی ہنس پڑے
واضح رہے کہ کنگ چارلس نے گزشتہ سال ایپسٹین اسکینڈل میں ملوث ہونے کی وجہ سے پرنس اینڈریو سے شاہی القابات واپس لے کر انہیں ونڈسر کے رائل لاج سے بے دخل کردیا تھا۔
سابق ڈیوک آف یارک اینڈریو کو رواں سال کے آغاز میں عوامی عہدے کے غلط استعمال کے شبہے میں گرفتار بھی کیا گیا تھا، اور اگرچہ انہیں اسی دن رہا کر دیا گیا تھا، تاہم وہ اب بھی پولیس کی زیرِ تفتیش ہیں۔














