بنگلہ دیشی حکام، لیبیا کی حکومت اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے تعاون سے کیے گئے ایک مشترکہ انسانی ہمدردی آپریشن کے تحت 170 بنگلہ دیشی شہریوں کو منگل کی صبح لیبیا سے وطن واپس منتقل کر دیا گیا۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وطن واپس آنے والے افراد بن غازی سے براک ایئر کی پرواز کے ذریعے صبح تقریباً 5 بجے ڈھاکا پہنچے۔
حکام کے مطابق زیادہ تر افراد انسانی اسمگلروں کے جھانسے میں آ کر غیر قانونی طریقے سے لیبیا پہنچے تھے۔
اسمگلروں نے انہیں بحیرہ روم کے خطرناک راستوں کے ذریعے یورپ پہنچانے کے خواب دکھائے تھے۔
رپورٹس کے مطابق لیبیا میں پھنسے ان تارکین وطن میں سے کئی اغوا، تشدد اور استحصال کا شکار بھی ہوئے۔
شمالی افریقی ملک لیبیا گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی اور تنازعات کا شکار ہے، جس کے باعث وہاں غیر ملکی تارکین وطن کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
اس وطن واپسی کے عمل میں لیبیا میں بنگلہ دیشی سفارتخانے، وزارت خارجہ، وزارت تارکین وطن بہبود و سمندر پار روزگار، لیبیائی حکام اور آئی اور ایم نے مشترکہ کردار ادا کیا۔
ڈھاکا ایئرپورٹ پر سرکاری حکام اور آئی او ایم کے نمائندوں نے واپس آنے والوں کا استقبال کیا۔
آئی او ایم کی جانب سے متاثرین کو سفری اخراجات، خوراک، بنیادی طبی سہولیات اور ضرورت پڑنے پر عارضی رہائش بھی فراہم کی گئی۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے وطن واپس آنے والے افراد پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تجربات عوام کے ساتھ شیئر کریں تاکہ غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے خطرات سے متعلق آگاہی پیدا کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ لیبیا کے مختلف حراستی مراکز میں موجود مزید بنگلہ دیشی شہریوں کی محفوظ وطن واپسی کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں۔














