موسمیاتی خطرات، پاکستان کی اقتصادی رفتار سست ہونے کا خدشہ

جمعرات 21 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک کی ششماہی اقتصادی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران موسمیاتی آفات سے عالمی اور علاقائی اوسط کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوا۔

رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیاں نہ صرف ماحول بلکہ ملکی معیشت، زراعت، صنعت اور توانائی کے شعبوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ صرف ایک فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر کیوں؟

’اس کے باوجود ملک کو اپنی معیشت کی ترقی، جی ڈی پی میں اضافہ اور اخراج کی شدت کم کرنے جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔‘

اسٹیٹ بینک کے مطابق اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ میں توازن قائم کرنا پاکستان کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہے۔

عالمی بینک کے اندازوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو 2050 تک پاکستان کی جی ڈی پی میں 4.5 سے 6.5 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے بے بس ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

جبکہ بدترین صورتحال میں یہ کمی 9 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے، زراعت اور صنعت کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں اور ان شعبوں کی پیداوار میں 17 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1995 سے 2024 تک دنیا بھر میں 9 ہزار 700 سے زائد موسمیاتی واقعات پیش آئے، جن سے 4.5 ٹریلین ڈالر کے معاشی نقصانات ہوئے۔

اس عرصے میں پاکستان موسمیاتی آفات سے متاثر ہونے والے ممالک میں 15ویں نمبر پر رہا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں موسمیاتی تبدیلی پر کیا دلائل دیے؟

اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا کہ ملک میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بے ترتیب بارشیں، سمندر کی سطح میں اضافہ اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا مستقبل میں مزید خطرات پیدا کرسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ شدید گرمی کے بعد ہونے والی بارشیں اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ جیسے عوامل تباہی میں کئی گنا اضافہ کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے پیرس معاہدے کے تحت 2035 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے فنڈز فراہمی کی مخالفت نہیں کی، جان کیری

اس مقصد کے لیے 10 ارب درخت سونامی، مینگرووز کی بحالی اور شمسی توانائی کے فروغ جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق 1992 سے 2021 تک موسمیاتی آفات کے باعث پاکستان کو 29.3 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ صرف 2022 کے سیلاب سے تقریباً 28 ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp