امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو میں نیٹو اتحادیوں سے اہم ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ ملاقات ایران جنگ کے معاملے پر واشنگٹن اور یورپی شراکت داروں کے درمیان شدید دراڑیں پیدا ہونے کے بعد ہورہی ہے۔ اس بحران کے باعث امریکا نے یورپ سے اپنے پانچ ہزار فوجی واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ ان یورپی ممالک سے شدید مایوس ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین پر قائم فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ امریکی وزیر خارجہ نے خاص طور پر اسپین کو نشانہ بناتے ہوئے سخت لہجے میں ان کی نیٹو میں شمولیت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اتحادی جنگ میں اڈوں کا استعمال نہیں کرنے دے سکتے تو ان کا نیٹو میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر کے درمیان تلخ کلامی، یورپی رہنما یوکرین کے حق میں بول پڑے
امریکا اس فوجی مہم کو نیٹو کے تمام ارکان کی مدد کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتا ہے جبکہ یورپی رہنما اسے واشنگٹن کا یکطرفہ فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ اس سرد جنگ کے جواب میں پینٹاگون نے جرمنی سے 5 ہزار فوجیوں کی واپسی کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔
امریکی حکام نے اس سخت اقدام کو جرمن چانسلر کی طرف سے صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی پر کی جانے والی کھلی تنقید کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
جرمن چانسلر نے کہا تھا کہ امریکا کے پاس اس جنگ سے نکلنے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ اس تنقید پر ٹرمپ انتظامیہ نے جرمنی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوما ہاک میزائلوں کی تنصیب بھی منسوخ کردی ہے۔
اس کے ساتھ ہی واشنگٹن نے پیغام دیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی سیکیورٹی بحران کے وقت نیٹو کے لیے امریکی عسکری امداد محدود رہے گی۔
پولینڈ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا معاملہ
دوسری طرف پولینڈ کے حوالے سے امریکی عسکری پالیسی میں ایک عجیب تضاد دیکھا گیا ہے۔ پینٹاگون نے پہلے تو وہاں 4 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کو موخر کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن اس کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے وہاں مزید 5 ہزار اضافی فوجی بھیجنے کا وعدہ کر کے یورپی ماہرین کو شدید الجھن میں ڈال دیا۔
یورپی ممالک کی امریکا کو منانے کی کوششیں
اس کشیدگی اور امریکا کے نیٹو سے ممکنہ علیحدگی کے خطرات کو بھانپتے ہوئے یورپی وزرائے خارجہ اب واشنگٹن کو منانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ یورپی رہنما یہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہیں کہ حالات بہتر ہوتے ہی وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے اپنا بحری تعاون پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹو اتحادیوں کا ٹرمپ کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار
نیٹو کے اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل الیکسس گرنکیوچ نے یورپی ممالک کا خوف کم کرنے کے لیے ایک بیانیہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کا انخلا یکدم نہیں بلکہ کئی سالوں پر محیط ہو گا۔ ان کا موقف ہے کہ اس اقدام کا اصل مقصد یورپی ممالک کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے خطے کی سیکیورٹی کی ذمہ داری اب خود اٹھائیں۔
معاملات کو مزید پیچیدہ بنانے میں گرین لینڈ کا تنازع بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ڈنمارک کی ملکیت میں شامل اس جزیرے کو خریدنے کی خواہش دوبارہ ظاہر کی ہے۔ ڈنمارک کے حوالے سے امریکا کے اس غیر سفارتی اصرار نے یورپی ممالک کے اندر اتحادیوں کی خودمختاری کے بارے میں شدید تحفظات پیدا کردیے ہیں۔













