اسلام آباد میں پاکستان کے وزیرِ ریلوے حنیف عباسی اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر کے درمیان ایک انتہائی اہم ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں ریلوے کے شعبے میں دوطرفہ عسکری و اقتصادی تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وفاقی وزیر نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں عسکری سازوسامان، جدید مال بردار نظام اور ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی میں سرمایاکاری کی باقاعدہ دعوت دی، پاکستانی وزارتِ ریلوے نے شدید مالی بحران اور قرضوں کے بوجھ سے نمٹنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عید کے دنوں میں پاکستان ریلوے نے کتنی آمدنی حاصل کی؟
حنیف عباسی نے کہا کہ بوڑھے اور خستہ حال ریل نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک نئی ٹریک ایکسیس پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے، اس نئی پالیسی کے تحت دنیا بھر کی نجی اور غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان کا سرکاری ریل نیٹ ورک استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
Federal Minister for Railways held a detailed meeting with U.S. Ambassador to discuss Pakistan-U.S. relations and cooperation in the railway sector.
The U.S. Ambassador assured support for promoting foreign investment in Pakistan Railways and agreed to explore opportunities in… pic.twitter.com/8RcnFjVyr1
— Ministry of Railways – Pakistan (@MOR_Pakistan) May 22, 2026
انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین کے مطابق تیار کی جانے والی اس پالیسی کے تحت نجی آپریٹرز مقررہ فیس کے عوض سرکاری پٹریوں پر اپنی گاڑیاں چلا سکیں گے، حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے ریلوے کے گرتے ہوئے مال بردار مارکیٹ شیئر کو دوبارہ بحال کیا جا سکے گا۔
امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے اس پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکی سرمایہ کاروں کی آمد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد پاکستان ریلوے کے کرایوں میں بھی اضافہ
ملاقات کے دوران وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے دونوں ممالک کے پرانے دوستانہ تعلقات کا حوالہ بھی دیا، انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان ریلوے کے نظام میں 254 امریکی ساختہ انجن کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے ان انجنوں کو پاک امریکا دیرینہ اور شاندار دوطرفہ عسکری و اقتصادی تعاون کی ایک روشن مثال قرار دیا۔
وزیر ریلوے نے امریکی وفد کے سامنے وسطی ایشیا کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے جوڑنے والے بڑے سفارتی اور تجارتی منصوبے بھی پیش کیے، ان منصوبوں میں ازبکستان اور قازقستان کو بلوچستان کے سرحدی شہر نوکنڈی کے راستے سمندر تک رسائی دینا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے کی کایا پلٹنے کا فیصلہ، وزیراعظم کا منافع بخش ادارہ بنانے کی ہدایت
امریکی سفیر نے پاکستان ریلوے کی انتظامیہ کو یقین دلایا کہ وہ ان تمام بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا گہرائی سے جائزہ لیں گی، انہوں نے واشنگٹن میں موجود اعلیٰ حکام اور کاروباری اداروں تک پاکستان کی اس نئی پیشکش کو پہنچانے کا وعدہ بھی کیا۔
دونوں ممالک نے مستقبل میں ریلوے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے ورکنگ ریلیشن شپ کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔











