ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان ریلوے نے مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے کرایوں میں اضافے کا اعلان کردیا ہے۔
حکام کے مطابق ایک روز قبل حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا تھا۔ یہ اضافہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہونے اور خام تیل کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تیل کی عالمی قیمتوں کے اثرات سے مکمل طور پر الگ رہنا ممکن نہیں، احسن اقبال
پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق اکانومی کلاس کے کرایوں میں 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ ایئرکنڈیشنڈ کلاسز کے کرایوں میں 10 فیصد اضافہ ہوگا۔ اسی طرح مال بردار ٹرینوں کے نرخوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے مسافر ٹرینوں کے آپریشنل اخراجات کا بوجھ پاکستان ریلوے خود برداشت کرے گا۔
ترجمان کے مطابق کرایوں میں یہ اضافہ 9 مارچ سے مسافر اور مال بردار تمام سروسز پر نافذ ہوگا تاہم پہلے سے کرائی گئی بکنگ پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہوچکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کے لیے چیلنج بن گیا، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے کے اضافے نے مہنگائی میں مزید اضافہ کردیا ہے اور شہریوں کے مطابق ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ کئی شہریوں نے بتایا کہ پیٹرول پمپس پر ایک لیٹر سے کم پیٹرول دینے سے انکار پر جھگڑوں کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔
دکانداروں کے مطابق پھل، سبزیاں اور دیگر اشیا کی ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک چکر کا کرایہ تقریباً ایک ہزار روپے ہوتا تھا جو اب بڑھ کر ڈھائی ہزار سے تین ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔












