وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے ایک رکنِ صوبائی اسمبلی اور معروف میڈیا شخصیت کے مابین درپیش حالیہ معاملے پر اپنا سخت موقف اپنا لیا ہے۔ مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے جسے مکمل طور پر میرٹ اور قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خاتون کو ہراساں کرنے، دھمکانے یا استحصال کی کوشش میں ملوث کسی بھی شخص کو ہرگز نہیں بخشا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بے بنیاد الزامات کیوں لگائے؟ اداکارہ صبا قمر نے صحافی کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا
وزیرِ اعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی فرد، چاہے اس کا عہدہ، سماجی حیثیت یا سیاسی تعلق کچھ بھی ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام ریاستی ادارے اس معاملے میں آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور آئین و قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ کسی خاتون کو ذاتی مواد منظرِ عام پر لانے کی دھمکی دے کر دباؤ ڈالنے یا استحصال کرنے کی ہر کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ عناصر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس سخت بیان کو ایک حتمی وارننگ سمجھا جائے۔ حکومت خواتین کے تحفظ اور ان کے حقوق کی پامالی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا۔
حالیہ معاملہ، جس میں مسلم لیگ (ن) کے ایک رکنِ صوبائی اسمبلی اور ایک معروف میڈیا شخصیت شامل ہیں، ایک ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے اور اسے مکمل طور پر میرٹ اور قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ تاہم میں واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ کسی خاتون کو ہراساں کرنے، دھمکانے یا استحصال کی کوشش میں ملوث… https://t.co/1PN45jpANU
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) May 22, 2026
یاد رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں دائر اپنی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ نمرہ خان نے اپنے اغوا کی کوشش ناکام بنادی
اداکارہ نے گزشتہ روز انسٹاگرام اسٹوری پر ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اس معاملے کی متعدد بار این سی سی آئی اے، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کو شکایات درج کروائیں، تاہم مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث مناسب کارروائی نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کی گئی جبکہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
مومنہ اقبال نے اپنی پوسٹ میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔ اداکارہ نے اعلیٰ حکام، اہم سرکاری دفاتر، نیوز چینلز اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنی پوسٹ میں ٹیگ کیا تھا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال یا انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ان کی پوسٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی معاملہ زیرِ بحث آ گیا اور متعدد صارفین نے سیاسی شخصیات اور متعلقہ اداروں کو ٹیگ کرتے ہوئے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’اتنے لوگوں کے سامنے دکاندار کیسے لڑکیوں کو ہراساں کرسکتا ہے؟‘، مریم نفیس کو لڑکیوں کا دفاع مہنگا پڑگیا
اداکارہ مومنہ اقبال کی درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایم پی اے ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا خان کو طلب کر لیا ہے۔ مومنہ اقبال کے الزامات اور ایجنسی کی کارروائی کے بعد اب نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں کہ تحقیقات کس رخ پر آگے بڑھتی ہیں اور اس معاملے میں مزید کیا حقائق سامنے آتے ہیں۔
مومنہ اقبال خواتین کارڈ کھیل رہی ہیں
دوسری جانب ن لیگ کے رہنما اور ایم پی اے ثاقب چدھڑ کا کہنا ہے کہ آٹھ ماہ سے مومنہ اقبال سے کوئی رابطہ نہیں اور وہ ویمن کارڈ کھیل رہی ہیں جبکہ ان کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ مومنہ اقبال کے منگیتر نے ویڈیو دیکھ کر دھمکیاں دیں جس کے خلاف وہ خود تھانے میں درخواست دے چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب معلوم ہوا ہے کہ مومنہ اقبال شادی کرنے جا رہی ہیں اور ان کی والدہ نے کال کر کے ان سے معافی مانگی تھی، اگر انہوں نے خود کال کی ہو تو ثبوت سامنے لائے جائیں۔












