امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں وقتی کامیابیاں ضرور حاصل ہوئیں، تاہم جنگ شروع ہونے کے 3 ماہ بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا وہ مجموعی طور پر یہ جنگ ہار رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن، آبنائے ہرمز پر اثرورسوخ اور جوہری پروگرام برقرار رہنے کے باعث واشنگٹن اب ایک طویل اور پیچیدہ بحران میں الجھتا دکھائی دے رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں میں متعدد کامیابیاں حاصل ہونے کے باوجود اب ایک بڑے سوال کا سامنا ہے: کیا وہ یہ جنگ جیتنے کے بجائے ہار رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیے ایران جنگ پر اختلافات: مارکو روبیو کی نیٹو وزرا سے ملاقات، ڈونلڈ ٹرمپ اسپین اور جرمنی سے شدید ناراض
تجزیہ کاروں کے مطابق 3 ماہ گزرنے کے باوجود ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت، جوہری پروگرام پر سمجھوتے سے انکار اور مذہبی قیادت پر مشتمل حکومتی نظام بڑی حد تک برقرار ہے، جس سے یہ شکوک بڑھ رہے ہیں کہ آیا ٹرمپ امریکی فوجی کامیابیوں کو کسی واضح جغرافیائی یا سیاسی فتح میں تبدیل کر پائیں گے یا نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ’مکمل کامیابی‘ سے متعلق بار بار کی جانے والی دعوے داریاں اب کمزور محسوس ہونے لگی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک غیر یقینی سفارت کاری اور ممکنہ نئے حملوں کی دھمکیوں کے درمیان جھول رہے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر امریکا دوبارہ حملے کرتا ہے تو خطے میں ایرانی ردعمل مزید کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس تنازع کے نتیجے میں امریکا اور اس کے خلیجی اتحادی کمزور ہو سکتے ہیں، جبکہ عسکری اور معاشی دباؤ کا شکار ہونے کے باوجود ایران اپنی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھانے میں کامیاب ہو سکتا ہے، کیونکہ اس نے یہ دکھایا ہے کہ وہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل و گیس ترسیل متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم کچھ ماہرین اب بھی یہ امکان ظاہر کرتے ہیں کہ اگر مذاکرات ٹرمپ کے حق میں جاتے ہیں تو وہ کسی ’باعزت راستے‘ کے ذریعے بحران سے نکل سکتے ہیں۔
سابق امریکی مشرق وسطیٰ مذاکرات کار ایرون ڈیوڈ ملر نے کہا، ’3 ماہ بعد صورتحال یہ ظاہر کر رہی ہے کہ ٹرمپ کی مختصر جنگ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک ناکامی میں بدل رہی ہے۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہ خود کو ’ ہارنے والا‘ کہلوانا پسند نہیں کرتے، جبکہ اس وقت دنیا کی طاقتور ترین فوج ایک ایسے ملک کے سامنے کھڑی ہے جو خود کو برتر پوزیشن میں سمجھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران شکست تسلیم کرلے تو بھی امریکی میڈیا اسے ایرانی کامیابی قرار دیگا، ٹرمپ کی ذرائع ابلاغ پر تنقید
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ میں اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر لیے یا ان سے بھی آگے نکل گیا۔
انہوں نے کہا، ’صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں اور وہ دانشمندی سے ہر امکان کو کھلا رکھے ہوئے ہیں۔‘
داخلی دباؤ اور سیاسی مشکلات
صدر ٹرمپ نے دوسری مدتِ صدارت کی انتخابی مہم کے دوران غیر ضروری جنگوں سے دور رہنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب وہ ایک ایسے تنازع میں گھرے دکھائی دے رہے ہیں جو ان کی خارجہ پالیسی اور عالمی ساکھ کو طویل نقصان پہنچا سکتا ہے۔
امریکا میں پٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور گرتی مقبولیت نے بھی ٹرمپ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ اس وقت دو راستوں میں پھنسے ہوئے ہیں: یا تو ایک کمزور معاہدہ قبول کریں یا پھر عسکری کارروائیوں میں شدت لا کر بحران کو مزید طول دیں۔
یہ بھی پڑھیے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران جنگ نہیں، امریکی سینیٹ میں اہم پیشرفت
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو ٹرمپ محدود فضائی حملوں کو ’آخری کامیابی‘ قرار دے کر تنازع سے نکلنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ایران کا ردعمل اور جوہری پروگرام
جنگ کے آغاز میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل ذخیرے، بحری قوت اور کئی اہم عسکری رہنماؤں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
تاہم اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، جس سے عالمی توانائی منڈی میں شدید بحران پیدا ہوا، جبکہ اسرائیل اور خلیجی ممالک پر حملے بھی کیے گئے۔
اس کے بعد صدر ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا حکم دیا، لیکن اس اقدام سے بھی تہران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا بنیادی ہدف، یعنی ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا، اب تک حاصل نہیں ہو سکا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم اب بھی زیرِ زمین محفوظ ہو سکتا ہے، جسے مستقبل میں مزید پراسیس کر کے ہتھیاروں کے درجے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات شدت اختیار کرگئے
ایران کا مؤقف ہے کہ اسے پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
رائٹرز کے مطابق 2 ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر نے ہدایت جاری کی ہے کہ ملک کا تقریباً ہتھیار سازی کے درجے تک پہنچا ہوا یورینیم بیرونِ ملک نہیں بھیجا جائے گا۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں مزید تیز کر سکتا ہے تاکہ وہ خود کو شمالی کوریا کی طرح محفوظ بنا سکے۔
عالمی اثرات اور بڑھتی تنہائی
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس بحران کے دوران یورپی اتحادیوں سے بھی مکمل حمایت حاصل نہیں ہو سکی، کیونکہ کئی یورپی ممالک نے ایسی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کیا جس کے بارے میں ان سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔
دوسری جانب چین اور روس نے بھی اس تنازع سے امریکی فوجی کمزوریوں اور غیر روایتی ایرانی حکمت عملیوں سے متعلق اہم اسباق حاصل کیے ہیں۔
رابرٹ کیگن نے اپنی ایک حالیہ تحریر ’چیک میٹ اِن ایران‘ میں لکھا کہ ایران جنگ کا نتیجہ امریکا کی عالمی ساکھ کے لیے ویتنام اور افغانستان سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کے بقول،’اب ماضی کی صورتحال کی طرف واپسی ممکن نہیں رہی، اور نہ ہی امریکا ایسی حتمی فتح حاصل کر سکے گا جو اس نقصان کا ازالہ کر سکے۔‘














