امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران کے حوالے سے مستقبل کی حکمت عملی پر اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان منگل کو ہونے والی طویل اور کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران جنگ بندی منصوبے اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ علاقائی ثالث ایک ’لیٹر آف انٹینٹ‘ تیار کر رہے ہیں، جس کے تحت ایران کے ساتھ موجودہ تنازع کا باضابطہ خاتمہ اور 30 روزہ مذاکراتی دور کا آغاز کیا جائے گا۔ ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔
رپورٹ کے مطابق قطر اور پاکستان کی جانب سے تیار کردہ ایک نظرثانی شدہ تجویز، جسے دیگر علاقائی ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے، واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے زیر گردش ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو ان مذاکرات کے حوالے سے شدید شکوک رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایران پر فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے۔ ٹیلیفونک رابطے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم مبینہ طور پر مذاکرات کی سمت اور امریکا کی جانب سے تہران کے ساتھ عبوری معاہدے کے امکان پر سخت تشویش میں مبتلا ہوگئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو آئندہ چند ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے براہِ راست ملاقات کرکے ایران پالیسی پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو غزہ مذاکرات سبوتاژ کرکے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ذلت کا باعث بن گئے، اسرائیلی اخبار ہاریٹز
دوسری جانب صدر ٹرمپ مسلسل اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، تاہم انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔
صحافیوں کی جانب سے نیتن یاہو کے مؤقف سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ نے اختلافات کو کم اہم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم ’ایران کے معاملے پر وہی کریں گے جو میں چاہوں گا‘، جبکہ انہوں نے نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی مضبوط قرار دیا۔
اسرائیلی چینل 13 کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ پر ان کے قریبی مشیروں اور متعدد خلیجی ممالک کی جانب سے تہران کے ساتھ سفارتی معاہدے کی راہ اپنانے کے لیے دباؤ موجود ہے۔ عہدیدار کے مطابق کسی بھی دیرپا معاہدے کے لیے واشنگٹن کو کچھ رعایتیں دینا ہوں گی، تاہم ایران کے خلاف فوجی آپشن بدستور موجود رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر گزشتہ چند روز سے مذاکراتی فریم ورک کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات ختم کیے جاسکیں۔
ذرائع کے مطابق قطر نے مجوزہ نظرثانی شدہ مسودہ واشنگٹن اور تہران دونوں کو پیش کردیا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ تہران کی جانب سے پیش کردہ 14 نکاتی تجویز کی بنیاد پر مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن فدا حسین مالکی نے اعلان کیا ہے کہ جنرل عاصم منیر جمعرات کو تہران کے لیے امریکا کا نیا پیغام پہنچائیں گے۔
مذاکرات سے واقف ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق اس سفارتی کوشش کا مقصد ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید واضح یقین دہانیاں حاصل کرنا اور امریکا کی جانب سے منجمد ایرانی اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی سے متعلق ضمانتیں طے کرنا ہے۔ تاہم اب بھی یہ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ آیا تہران نظرثانی شدہ شرائط قبول کرے گا یا نہیں۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے ایران کو جھکایا نہیں جاسکتا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ اپنے وعدوں پر قائم رہا ہے اور جنگ سے بچنے کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرتا آیا ہے۔ ان کے بقول ایران کی جانب سے سفارت کاری کے تمام راستے اب بھی کھلے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران کو دباؤ کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی توقع “محض ایک خام خیالی” ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ’سفارت کاری میں باہمی احترام، جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ دانشمندانہ، محفوظ اور پائیدار راستہ ہے۔‘














