بھارت کے ساولکوٹ ڈیم منصوبے سے دریائے چناب پر نئے آبی و سیاسی خدشات جنم لینے لگے

پیر 25 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر 1856 میگاواٹ کے ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے لیے 5,129 کروڑ روپے کی منظوری نے جنوبی ایشیا میں آبی تنازعات، شفافیت اور علاقائی پانی کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ بڑے ڈیم، سرنگوں اور دیگر انجینئرنگ ڈھانچے پر مشتمل ہے، جسے ماہرین بھارت کی مغربی دریاؤں پر بڑھتی ہوئی اپ اسٹریم ہائیڈرو پاور حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کا مستقبل: 24 اپریل 2025 کے بعد بھارت کے جارحانہ اقدامات اور پاکستان کو درپیش آبی چیلنجز

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا اور تکنیکی معلومات کے تبادلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے بہاؤ سے متعلق معلومات کی محدود فراہمی اور تکنیکی تعاون میں کمی پاکستان میں زرعی منصوبہ بندی اور آبپاشی کے نظام کو متاثر کرسکتی ہے، جہاں لاکھوں افراد دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مشترکہ دریاؤں پر یکطرفہ انفراسٹرکچر کی توسیع خطے میں آبی و سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور بڑھتے ہوئے آبی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:بھارتی آبی جارحیت نے کرتارپور ڈبو دیا، گردوارہ دربار صاحب متاثر

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہداتی تعاون اور شفافیت میں کمی جاری رہی تو اس سے نہ صرف خطے میں پانی کے مشترکہ انتظام پر اعتماد متاثر ہوگا بلکہ طویل المدتی ماحولیاتی اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp