خانہ کعبہ کے عین اوپر سورج کا ظہور، قبلہ رخ درست کرنے کا نادر فلکیاتی منظر

جمعرات 28 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مکہ مکرمہ میں آج ایک منفرد فلکیاتی منظر دیکھنے میں آیا جب سورج عین خانہ کعبہ کے اوپر آ گیا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ نادر مظہر سال میں 2 مرتبہ پیش آتا ہے اور اس کی مدد سے دنیا بھر کے مسلمان قبلہ رخ کی درست سمت معلوم کر سکتے ہیں۔

مقدس شہر مکہ مکرمہ کے آسمان پر آج ایک منفرد فلکیاتی منظر دیکھنے میں آیا جب سورج عین کعبہ کے اوپر آ گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ فلکیاتی مظہر قبلہ رخ کی درست سمت متعین کرنے کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔

مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 18 منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر پہنچا، جسے فلکیات کی دنیا میں ایک نہایت دقیق اور اہم مظہر قرار دیا جاتا ہے۔

جدہ آسٹرونومی سوسائٹی کے ڈائریکٹر انجینئر ماجد ابو زہرہ کے مطابق سورج تقریباً 89.94 ڈگری کی بلندی پر خانہ کعبہ کے اوپر پہنچا، جبکہ مکمل عمودی سیدھ سے اس کا فرق محض 0.06 ڈگری تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر سورج کی پوزیشن اور عمودی اشیا کے سائے کی مدد سے دنیا بھر میں قبلہ رخ کی درستگی آسانی سے جانچی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فلکیاتی مظہر سال میں 2 مرتبہ پیش آتا ہے، جب سورج اپنی ظاہری حرکت کے دوران خطِ سرطان اور خطِ جدی کے درمیان سفر کرتا ہے۔

انجینئر ماجد ابو زہرہ نے کہا کہ اس مظہر کی نہ صرف سائنسی بلکہ تعلیمی اہمیت بھی ہے کیونکہ اس کے ذریعے زمین کی حرکت، فلکیاتی نظام اور سماوی نقاط سے متعلق تصورات کو بہتر انداز میں سمجھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں بھی اس فلکیاتی مظہر کو بعض مساجد کے قبلہ رخ کی تصحیح کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp