اگر 2 دہائیاں پہلے کسی سے کہا جاتا کہ اس کے دوست یا خاندان کے افراد دن کے کسی بھی وقت اس کی درست لوکیشن دیکھ سکیں گے تو شاید اسے یہ خیال خوفناک لگتا مگر آج یہی فیچر نوجوان نسل میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں فون لوکیشن کی نگرانی، ایپل، گوگل اور سام سنگ نے سخت اعتراضات اٹھا دیے
ایک وقت تھا جب کسی کو اپنی ہر لمحے کی لوکیشن بتانا ذاتی آزادی اور پرائیویسی میں مداخلت سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہی فیچر نوجوانوں، دوستوں اور خاندانوں کے درمیان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اسمارٹ فونز میں موجود لوکیشن شیئرنگ فیچر جو ابتدا میں صرف ہنگامی حالات یا حفاظت کے لیے متعارف کرایا گیا تھا اب روزمرہ سماجی تعلقات کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اب یہ محض ایک سیکیورٹی ٹول نہیں بلکہ سماجی تعلقات کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق نوجوان نسل میں لوکیشن شیئرنگ کو اعتماد، دوستی اور رابطے کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ بہت سے دوست ایک دوسرے کے ساتھ اپنی لائیو لوکیشن اس لیے شیئر کرتے ہیں تاکہ ملاقاتوں میں آسانی ہو اور ایک دوسرے کی خیریت معلوم رہے یا یہ جان سکیں کہ کون کہاں موجود ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیچر اب صرف حفاظتی ضرورت تک محدود نہیں رہا بلکہ کئی حلقوں میں یہ ایک ’سماجی امتحان‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بعض نوجوان اگر کسی دوست یا شریک حیات سے لوکیشن شیئر نہ کریں تو اسے بداعتمادی یا دوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: اسنیپ چیٹ کا اہم فیچر، صارف بحفاظت گھر پہنچنے کی اطلاع دوستوں کو دے سکے گا
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ لوکیشن شیئرنگ سہولت اور تحفظ فراہم کر سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ پرائیویسی کے خدشات بھی وابستہ ہیں۔ مستقل لوکیشن شیئر کرنے سے ذاتی نقل و حرکت کی معلومات دوسروں کے سامنے آتی رہتی ہیں جس سے بعض اوقات نگرانی یا غیر ضروری دباؤ کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق نوجوان نسل اس فیچر کو روایتی نگرانی کے بجائے ڈیجیٹل رابطے کا حصہ سمجھتی ہے تاہم ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ صارفین لوکیشن شیئرنگ استعمال کرتے وقت اس کے دورانیے، دائرہ کار اور متعلقہ افراد کے انتخاب میں احتیاط برتیں۔
حالیہ مطالعات کے مطابق نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زیڈ، لوکیشن شیئرنگ کو دوستی، اعتماد اور مسلسل رابطے کی علامت سمجھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوان اپنے قریبی دوستوں اور اہلخانہ کے ساتھ مستقل لوکیشن شیئر کرتے ہیں تاکہ روزمرہ سرگرمیوں میں ہم آہنگی برقرار رہے اور ایک دوسرے کی خیریت سے باخبر رہا جا سکے۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ نے بچوں کے لیے والدین کے زیرِ نگرانی اکاؤنٹس متعارف کروا دیے
تاہم اس رجحان نے پرائیویسی کے حوالے سے نئے سوالات بھی کھڑے کیے ہیں۔ آسٹریلیا کے ای سیفٹی کمیشن کی 2025 کی ایک تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ لوکیشن شیئرنگ بعض اوقات ڈیجیٹل جبر یا نگرانی کی صورت اختیار کر سکتی ہے خاص طور پر ایسے تعلقات میں جہاں ایک فریق دوسرے کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھنا چاہے۔
تحقیق کے مطابق تقریباً ہر 5 میں سے ایک نوجوان سمجھتا ہے کہ شریک حیات یا پارٹنر کی لوکیشن دیکھنا ایک معمول کی بات ہے۔
ادھر حالیہ ٹیکنالوجی رپورٹس نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ بعض موبائل ایپس صارفین کی لوکیشن سے توقع سے کہیں زیادہ حساس معلومات اخذ کر سکتی ہیں۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے نہ صرف نقل و حرکت بلکہ صارف کی روزمرہ عادات اور بعض صورتوں میں اندرونی ماحول کے بارے میں بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے لوکیشن فیچرز نے بھی اس بحث کو تیز کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بعض پلیٹ فارمز کے لوکیشن میپ فیچرز پر صارفین نے خدشات ظاہر کیے کہ ان سے غیر ارادی طور پر ان کی موجودہ جگہ دوسروں کے سامنے آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایکس کا لوکیشن فیچر، شفافیت کی نئی لہر یا پرائیویسی کا خطرہ؟نئی بحث چھڑ گئی
ماہرین کے مطابق لوکیشن شیئرنگ سہولت اور تحفظ ضرور فراہم کرتی ہے مگر اسے استعمال کرتے وقت صارفین کو واضح حدود طے کرنی چاہییں جیسے کہ لوکیشن کب، کتنی دیر اور کن افراد کے ساتھ شیئر کی جائے۔ ان کے بقول مستقبل میں اصل چیلنج سہولت اور پرائیویسی کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔













