عیدالاضحیٰ گزر گئی، سوال یہ ہے کہ اب پاکستان کی سیاست کس سمت جائے گی؟ کیا حکومت کو کسی بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا ہوگا؟ کیا اپوزیشن سڑکوں پر آئے گی یا سیاسی درجہ حرارت بدستور محدود رہے گا؟
ان تمام سوالات پر ملک کے معروف سینیئر تجزیہ کاروں نے اپنی آرا دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے مطابق حکومت، اتحادی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر موجود ہیں جبکہ اپوزیشن فی الحال بیانات، پریس کانفرنسز اور پارلیمانی احتجاج تک محدود رہنے کا امکان رکھتی ہے۔
سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاسی حالات بظاہر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں اور فوری طور پر کوئی بڑی سیاسی ہلچل نظر نہیں آ رہی، ہم تجزیے کرتے رہیں گے، حکومت والے حکومت کرتے رہیں گے اور اپوزیشن والے اپوزیشن میں رہیں گے۔ مجھے تو کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو اصل چیلنج سیاسی نہیں بلکہ معاشی صورتحال کا درپیش ہے۔ وفاقی حکومت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ قرضوں کی ادائیگی اور صوبوں کو وسائل کی منتقلی کے بعد مرکز کے پاس ترقیاتی یا انتظامی معاملات کے لیے زیادہ گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں این ایف سی ایوارڈ اور مالی اختیارات کی تقسیم پر بھی نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔
مجیب الرحمان شامی نے دفاعی اخراجات کے حوالے سے بھی اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر مرکز اور صوبے مل کر دفاعی اخراجات کا بوجھ اٹھانے پر متفق ہو جائیں تو مالی بحران میں کچھ بہتری آ سکتی ہے، ملک کو اس وقت سیاسی کشیدگی سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔

خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں بھی اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اہم سفارتی شخصیات کی ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ پس پردہ پیشرفت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹم بم نہیں ہونا چاہیے اور ایران بھی یہی مؤقف رکھتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا، اس لیے امید ہے کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ مومنہ اقبال کے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے پر سنگین الزامات، مریم نواز سے ایکشن کا مطالبہ
سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی نے کہا کہ عید کے بعد سیاسی ماحول نسبتاً ٹھنڈا اور پرسکون رہے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اپوزیشن کے پاس ایسی سیاسی گنجائش موجود نہیں کہ وہ ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک کی صورتحال میں مجھے کوئی بڑی اسٹریٹ موومنٹ نظر نہیں آ رہی۔ اپوزیشن اسمبلی کے اندر اور باہر اپنے بیانات دیتی رہے گی لیکن عملی طور پر کوئی بڑی تحریک چلانا آسان نہیں ہوگا۔

ماجد نظامی کے مطابق شدید گرمی، معاشی مشکلات اور عوامی ترجیحات بھی اپوزیشن کی ممکنہ تحریک کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، اپوزیشن جماعتیں کوشش کریں گی کہ سیاسی ماحول کو زندہ رکھا جائے لیکن فوری طور پر کوئی بڑا سیاسی بریک تھرو نظر نہیں آتا۔
سینیئر تجزیہ کار احمد ولید نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ عید کے فوراً بعد پاکستان کی سیاست میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی، اس وقت پاکستان کی توجہ داخلی سیاست سے زیادہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر مرکوز ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں سیاسی جوڑ توڑ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا انتخابی اتحاد کا اعلان
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت خطے کی صورتحال خصوصاً ایران سے متعلق معاملات میں مصروف ہے۔ اگر جنگ بندی یا کسی معاہدے کی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کی مزید تفصیلات بھی سامنے آئیں گی، اس لیے فوری طور پر ملکی سیاست میں بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے۔
احمد ولید نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں افواہیں اور قیاس آرائیاں ہمیشہ موجود رہتی ہیں اور وقتاً فوقتاً یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کی تصدیق نہیں کرتے۔
سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے واضح انداز میں کہا کہ موجودہ سیاسی بندوبست میں کسی فوری تبدیلی کے آثار موجود نہیں۔ ان کے مطابق حکومتی اتحاد اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کہیں اختلافات پیدا ہو رہے ہیں یا کوئی نئی سیاسی شخصیت سامنے لائی جا رہی ہے، ایسی باتوں میں حقیقت کم دکھائی دیتی ہے۔
انصار عباسی کے مطابق سیاسی حلقوں میں اکثر یہ خبریں گردش کرتی رہتی ہیں کہ حکومت کے اندر اختلافات بڑھ رہے ہیں یا کوئی نئی سیاسی انجینئرنگ ہو رہی ہے، تاہم موجودہ حالات میں ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ عید کے بعد بھی سیاسی منظرنامہ بڑی حد تک ویسا ہی رہے گا جیسا آج نظر آ رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مجموعی طور پر عید کے بعد پاکستان کی سیاست میں استحکام برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے۔ حکومت اپنی آئینی مدت اور اتحادی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ اپوزیشن فوری طور پر کسی فیصلہ کن تحریک کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب معاشی چیلنجز، علاقائی صورتحال اور خارجہ محاذ پر پیش رفت آنے والے مہینوں میں ملکی سیاست کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔













