شادی کے وقت کیے گئے وعدے بھی قانونی طور پر لازم، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

ہفتہ 30 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں درج حق مہر کے علاوہ شادی کے موقع پر کیے گئے علیحدہ معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا بھی پابند ہے۔ عدالت نے بیوی کو 5 مرلہ گھر دینے سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی اپیل مسترد کر دی۔

جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ شادی کے روز شوہر نے ایک الگ معاہدے کے تحت بیوی کو 5 مرلہ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا، لہٰذا اس وعدے کی قانونی حیثیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:’میں پھنس گئی ہوں، بس تم مت آنا‘، 24 سالہ دلہن کی موت نے بھارت کو ہلا دیا

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق ہے، اسے شوہر کا احسان یا صوابدیدی رعایت نہیں سمجھا جا سکتا۔ قانون کی نظر میں حق مہر شوہر پر ایک قرض کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ادائیگی لازم ہے۔

حکم نامے کے مطابق شادی کے دوران یا بعد میں حق مہر کا مطالبہ نہ کرنا خاتون کے اس حق سے دستبرداری تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ معاشرتی، خاندانی اور ثقافتی دباؤ کے باعث بہت سی خواتین اپنے حقوق کا فوری مطالبہ نہیں کرتیں، اس لیے خاموشی کو رضامندی یا حق سے دستبرداری نہیں سمجھا جا سکتا۔

lahore-high-court

عدالت نے مزید وضاحت کی کہ اسلامی قانون کے تحت حق مہر زبانی، تحریری یا بعد میں بھی طے کیا جا سکتا ہے، جبکہ شوہر کو شادی کے بعد حق مہر میں اضافہ کرنے کی بھی اجازت ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خاندانی معاملات کا فیصلہ کرتے وقت عدالتیں صرف قانونی موشگافیوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرتی حقائق اور فریقین کے جائز حقوق کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ شادی کے وقت کیے گئے تحریری وعدے اور معاہدے محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری بھی بن سکتے ہیں، جن پر عمل درآمد ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp