بھارتی شہر نوئیڈا میں 24 سالہ دلہن ٹویشا شرما کی پراسرار موت نے ایک بار پھر جہیز اور گھریلو تشدد کے مسئلے کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹویشا نے موت سے قبل اپنی بہن اور والدہ کو بھیجے گئے پیغامات میں خود کو ’پھنس جانے‘ اور ’دم گھٹنے‘ جیسی کیفیت کا شکار قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں: ’ہنی مون مرڈر‘ نئی دلہن نے شوہر کو اپنے سابق بوائے فرینڈ کی مدد سے قتل کردیا
رپورٹس کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال سے تعلق رکھنے والی ٹویشا کی شادی چند ماہ قبل نوئیڈا میں ہوئی تھی۔ اہلِخانہ کا الزام ہے کہ شادی کے بعد اسے مسلسل ذہنی دباؤ، ہراسانی اور جہیز کے مطالبات کا سامنا رہا۔
ٹویشا نے اپنی والدہ کو بھیجے گئے ایک پیغام میں لکھا تھا کہ وہ گھر واپس آنا چاہتی ہے کیونکہ وہاں اس کا دم گھٹتا ہے۔
اہلِخانہ کے مطابق موت سے کچھ دیر پہلے ٹویشا نے اپنی بہن کو پیغام بھیجا کہ ’میں پھنس گئی ہوں، بس تم مت آنا‘۔ بعد ازاں اس کی موت کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد خاندان نے اسے خودکشی نہیں بلکہ قتل قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مزید پڑھیں: شادی کی تقریب میں فائرنگ کرنے پر دلہن گرفتار، دلہا فرار
بھارتی پولیس نے مقدمہ درج کرکے شوہر اور سسرال کے دیگر افراد کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ بعض ملزمان کے گھروں پر چھاپے بھی مارے گئے ہیں۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور خواتین کے تحفظ سے متعلق قوانین اور جہیز مافیاز پر نئی بحث چھڑ گئی۔













