امریکی جریدے فوربس نے سال 2026 کے لیے ایشیا کے 30 سال سے کم عمر باصلاحیت افراد کی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں ٹیکنالوجی، سائنس، سماجی خدمات اور تفریح کے شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے 7 پاکستانیوں کو شامل کیا گیا ہے۔
فوربس کے مطابق یہ نوجوان اپنے اپنے شعبوں میں نئی تبدیلیاں لانے اور صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
رواں سال کی اس معتبر فہرست میں شامل ہونے والے پاکستانیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سید اسماعیل
کراچی سے تعلق رکھنے والے سید اسماعیل نے اشیا کی خریداری کے نظام کو شفاف اور ڈیجیٹل بنانے کے لیے ‘صراف’ نامی کمپنی کی بنیاد رکھی۔
ان کی کمپنی وسطی اور جنوبی ایشیا سے روئی اور سنگِ مرمر جیسی اشیا کی تجارت کرنے والے کاروباری اداروں کے لیے ایک موبائل ایپلی کیشن متعارف کروانے جا رہی ہے، جس کے ذریعے قیمتوں، معاہدوں اور جہاز رانی کی لائیو ٹریکنگ ممکن ہو سکے گی۔
ان کی کمپنی شارک ٹینک پاکستان سے پچاس لاکھ ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی بھی حاصل کر چکی ہے۔
محمد فرقان کریم کڈوائی اور سرفراز شاہد حسین
حبیب یونیورسٹی کے ان 2 گریجویٹس نے فنانس اور وینچر کیپیٹل کے زمرے میں جگہ بنائی ہے۔ انہوں نے سنگاپور میں قائم ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھی ہے جو درمیانے درجے کی کمپنیوں کو مہنگے سافٹ ویئرز خریدنے سے بچاتی ہے اور موجودہ ٹولز کے اندر ہی فنانس کے کاموں کو خودکار بناتی ہے۔
یہ دونوں نوجوان اس سے قبل پاکستان میں ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے ایک فن ٹیک اسٹارٹ اپ بھی بنا چکے ہیں۔
ماہرہ غنی
کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ماہرہ غنی نے فزکس اور سائنس کے شعبے میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔ وہ اس وقت کیمبرج یونیورسٹی میں انتہائی باریک سیمی کنڈکٹرز پر تحقیق کررہی ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں خواتین کو سائنس کے شعبے کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک تعلیمی پروجیکٹ بھی شروع کیا، جس پر انہیں بین الاقوامی اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔
ماہرہ غنی نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا ہے۔
فہد شہباز
سماجی خدمات کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے فہد شہباز نے صرف 18 سال کی عمر میں ‘یوتھ جنرل اسمبلی’ کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد نوجوانوں کو قیادت اور پالیسی سازی کی طرف لانا ہے۔ ان کی تنظیم برطانوی پارلیمان کی طرز پر ایک سالانہ اسمبلی چلاتی ہے جہاں نوجوان عوامی پالیسیوں پر بحث کرتے ہیں۔ فہد شہباز ماضی میں برطانوی ‘ڈیانا ایوارڈ’ بھی حاصل کر چکے ہیں۔
اس کے علاوہ تفریحی اور شوبز کے شعبے میں پاکستان کی معروف اداکارہ ہانیہ عامر اور فلم میکر ثمن کامران بھی اس باوقار فہرست میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں، جبکہ قومی ہیرو ارشد ندیم کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔













