مصنوعی ذہانت کی دنیا کے سب سے بڑے نام ’اوپن اے آئی‘ نے اب اسمارٹ فون کی مارکیٹ میں قدم رکھنے کی تیاری کرلی ہے اور وہ ایپل کے معروف ’آئی فون‘ کو براہِ راست چیلنج کرنے کے لیے اپنا پہلا فون متعارف کرانے جارہا ہے۔
معروف ٹیکنالوجی تجزیہ کار منگ چی کو کی جانب سے سامنے آنے والی حالیہ سپلائی چین رپورٹس کے مطابق اس فون کی تیاری کا کام توقع سے زیادہ تیز رفتاری سے جاری ہے،پہلے اس فون کی تیاری 2028 میں متوقع تھی، تاہم اب یہ پراجیکٹ 2027 کی پہلی 6 ماہ میں ہی مارکیٹ میں پیش کیے جانے کے لیے بالکل تیار نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ایپ کے تصور کی جانب بڑا قدم: اوپن اے آئی کا جی پی ٹی 5.5 ماڈل متعارف
اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو کمپنی 2027 اور 2028 کے دوران اس فون کے تقریباً 3 کروڑ یونٹس مارکیٹ میں سپلائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایپلی کیشنز کے بغیر چلنے والا ایک انوکھا فون ماہرین کے مطابق یہ کوئی روایتی اسمارٹ فون نہیں ہوگا، بلکہ اسے ’اے آئی ایجنٹ فون‘ کا نام دیا جارہا ہے، جس میں روایتی موبائل ایپس کے بجائے ایک ایسا جدید اور مربوط نظام ہوگا جو صارف کے ماحول اور ضرورت کو خود بخود سمجھے گا۔
اس فون کا مقصد ایک ایسا تجربہ فراہم کرنا ہے جہاں اس کے سنسرز صارف کی لوکیشن، سرگرمیوں، مواصلات اور اردگرد کے حالات کو بیک وقت مانیٹر کر کے مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیصلے کرسکیں۔ اس خواب کو سچ کرنے کے لیے اوپن اے آئی کے لیے ضروری ہے کہ وہ فون کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر، دونوں پر مکمل کنٹرول رکھے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی بچوں کی خفیہ فنڈنگ کے الزام کی زد میں
رپورٹس کے مطابق اس فون میں میڈیا ٹیک کا تیار کردہ خاص چِپ سیٹ استعمال کیے جانے کا امکان ہے، جو تائیوان کی مشہور کمپنی ٹی ایس ایم سی کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا۔ اس فون کی مینوفیکچرنگ کی ذمہ داری مبینہ طور پر لکشین پریسجن انڈسٹری کو دی گئی ہے۔
فون کے اندر 2 خاص مصنوعی ذہانت کے پروسیسرز لگائے جائیں گے، جن میں سے ایک دیکھنے (ویژن) اور دوسرا زبان (لینگویج) کو سمجھنے کے کام بیک وقت سرانجام دے گا۔ اس کے علاوہ دنیا کو بہتر طور پر دیکھنے اور سمجھنے کے لیے اس میں ایک جدید کیمرہ یونٹ اور ایڈوانسڈ ایچ ڈی آر سسٹم بھی شامل کیا جائے گا۔
ایپل کے ڈیزائنرز کی خدمات اور مارکیٹ کا ردعمل اوپن اے آئی نے اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لیے ایپل کے سابق مشہور ڈیزائنر جونی آئیو کی کمپنی ’آئی او پروڈکٹس‘ کو گزشتہ سال ساڑھے 6 ارب ڈالرز میں خریدا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
اس نئے اسٹارٹ اپ نے اب تک ایپل کے چالیس سے زائد اہم ملازمین اور ڈیزائنرز کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ اوپن اے آئی کی اس پیشقدمی نے ایپل جیسی بڑی کمپنی کو بھی چوکنا کردیا ہے، جس نے اپنے آئی فون ڈیزائننگ ٹیم کے اہم ارکان کو کمپنی میں برقرار رکھنے کے لیے 4 لاکھ ڈالرز تک کے بھاری بونس دینے کا اعلان کیا ہے۔
اگرچہ جونی آئیو اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے ماضی میں کہا تھا کہ ان کا اسکرین والا آلہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور ان کی پہلی مشترکہ پروڈکٹ ایک اسمارٹ اسپییکر کی شکل میں 2027 کے آغاز میں متوقع ہے، لیکن حالیہ رپورٹ مارکیٹ میں ایک بڑے مقابلے کی تصدیق کررہی ہے۔













