دنیا بھر کی لائبریریوں اور آرکائیوز میں ایسے بے شمار تاریخی دستاویزات محفوظ ہیں جو ناقابل فہم خفیہ رموز میں لکھے گئے ہیں۔ وہ تحریریں صدیوں تک انسانی سمجھ سے بالاتر رہیں مگر اب مصنوعی ذہانت یا اے آئی تاریخ کے ان سربستہ رازوں کو کھولنے میں مؤرخین کی مدد کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟
ویٹیکن لائبریری کے گہرے ذخائر میں ایک پراسرار ہاتھ سے لکھی گئی کتاب 400 برس سے زائد عرصے تک پڑھی نہ جا سکی۔ عجیب و غریب علامات سے بھری اس کتاب کو ’بورگ سائفر‘ کہا جاتا ہے۔
408 صفحات پر مشتمل یہ مخطوطہ 34 نامانوس نشانات، چند رومن حروف اور عربی میں لکھی ابتدائی سطر پر مشتمل تھا۔ اس کا کوئی معلوم خفیہ کلید موجود نہ تھی جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ بعض صفحات بھی خراب ہو چکے تھے۔
محققین نے مشین لرننگ کی مدد سے اس پراسرار متن کو پڑھنے میں کامیابی حاصل کی۔ راز کھلنے پر معلوم ہوا کہ اس میں انسانی جسمانی بیماریوں کے لیے عجیب و غریب علاج درج تھے جن میں اعلیٰ معیار کی سرخ شراب پینا اور جائفل کو آٹے میں خمیر کر کے پیچش کے علاج کے طور پر استعمال کرنا شامل تھا۔
مزید پڑھیے: اٹلی: پریمی جوڑوں کے لیے اہم ترین محراب ’لو آرچ‘ نے ویلنٹائن ڈے پر خود کو سمندر کے سپرد کردیا
اس منصوبے سے وابستہ اسٹاک ہوم یونیورسٹی کی پروفیسر بیاتا میگیسی کے مطابق یہ کام کسی جاسوسی تحقیق جیسا تھا جہاں ہر نشان اور ہر جزوی حل ماضی کے کسی کھوئے ہوئے راز تک پہنچنے کی کنجی بن سکتا تھا۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے آرکائیوز اور لائبریریوں میں محفوظ تقریباً ایک فیصد مواد مکمل یا جزوی طور پر خفیہ کوڈز میں لکھا گیا ہے۔ ان میں سفارتی معلومات، خفیہ انجمنوں کی رسومات، طبی نسخے، ذاتی خطوط، محبت نامے اور روزمرہ زندگی کی وہ تفصیلات شامل ہیں جو اس دور میں پوشیدہ رکھنا ضروری سمجھی جاتی تھیں۔
بعض تاریخی خفیہ تحریریں نسبتاً آسان ہوتی ہیں جہاں ہر نشان ایک حرف کی نمائندگی کرتا ہے مگر کچھ کوڈز انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں۔ بعض میں اصل زبان تک معلوم نہیں ہوتی جبکہ کچھ میں گمراہ کرنے کے لیے بے معنی علامات شامل کی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں: اظہار محبت کے خفیہ اشارے: کیا ایموجیز صدیوں پرانے کوڈ ورڈز کا تسلسل ہیں؟
فرانس کے قومی ادارہ برائے کمپیوٹر سائنس سے وابستہ ماہر سیسل پیرو اور ان کے ساتھیوں کو 500 سال پرانے ایک خط کو سمجھنے میں 6 ماہ لگے جو 120 مختلف علامات میں لکھا گیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خط مقدس رومی شہنشاہ چارلس پنجم نے اپنی جان کے درپے ایک مبینہ سازش کے خوف میں لکھا تھا۔
کوڈ توڑنے سے پہلے سب سے بڑا مرحلہ ان تحریروں کو ڈیجیٹل شکل دینا ہوتا ہے جو اکثر خراب لکھائی اور ماند پڑتی روشنائی کے باعث نہایت دشوار ہوتا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت اس مرحلے کو تیز تر بنا رہی ہے۔
ناروے کی یونیورسٹی آف اوسلو کی پروفیسر مشل والڈسپول اور ان کے ساتھیوں نے اے آئی پلیٹ فارم ٹرانسکریبس کے ذریعے سنہ 1637 میں لکھی گئی ایک خفیہ جنگی دستاویز کو کامیابی سے ڈیجیٹل شکل دی۔
یہ بھی پڑھیے: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟
ماہرین اب ڈی اسکرپٹ نامی بین الاقوامی منصوبے کے تحت ایسے جدید اے آئی ماڈلز تیار کر رہے ہیں جو غیرمعمولی علامات، قدیم رسم الخط اور نامانوس زبانوں کو پڑھنے کے قابل ہوں گے۔
محققین کا اگلا ہدف ایسا نظام تیار کرنا ہے جو صرف صفحات کی تصاویر دیکھ کر نہ صرف متن کو پڑھ سکے بلکہ خود بخود اسے ڈی کوڈ بھی کر دے۔
بیاتا میگیسی کی ٹیم نے ایک چیٹ بوٹ طرز کا اے آئی نظام تیار کیا ہے جو تحریر کی شناخت اور خفیہ رمز کشائی ایک ہی مرحلے میں انجام دیتا ہے۔ اس نظام نے بورگ سائفر کے 500 علامات پر مشتمل حصے کو محض 29 منٹ میں پڑھ کر انگریزی ترجمہ بھی فراہم کر دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف تاریخی سائفرز بلکہ قدیم ناقابلِ فہم رسم الخط، جیسے فیسٹوس ڈسک اور لینیئر اے کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل دنیا میں مستعمل نشان ’ @‘: جانیے اس کا مطلب اور ہزاروں سال پرانی دلچسپ تاریخ
بیاتا میگیسی کے بقول اصل جوش صرف ایک تاریخی معمے کو حل کرنے میں نہیں بلکہ ایسے طریقے وضع کرنے میں ہے جو دنیا بھر کے محققین کو ماضی کے لاتعداد راز دریافت کرنے میں مدد دے سکیں۔














