فراری کی پہلی برقی گاڑی پر ہنگامہ، ’لُوچے‘ نے مداحوں کو ناراض کردیا

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کی مشہور سپورٹس کار ساز کمپنی فراری کی پہلی مکمل برقی گاڑی ’لُوچے‘ (Luce) شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔

معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تصور پر بنائی گئی اس گاڑی کی رونمائی اٹلی کے صدر اور پوپ کی موجودگی میں ہوئی، مگر اگلے ہی روز فراری کے حصص میں 8 فیصد کمی دیکھی گئی اور سماجی ذرائع ابلاغ پر گاڑی کا مذاق اڑایا جانے لگا۔

مزید پڑھیں: فراری کی پہلی الیکٹرک گاڑی متعارف، جدید ڈیزائن نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی

قریباً 18 کروڑ روپے مالیت کی ’لُوچے‘ فراری کی پہلی مکمل برقی اور 5 نشستوں والی گاڑی ہے۔ اگرچہ یہ صرف اڑھائی سیکنڈ میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا ڈیزائن روایتی فراری گاڑیوں جیسا نہیں اور اس میں فراری کی پہچان سمجھی جانے والی انجن کی گرج بھی موجود نہیں۔

فراری کے سابق سربراہ لوکا دی مونتیزیمولو نے خبردار کیا کہ یہ ماڈل کمپنی کی افسانوی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ کئی ماہرین اور مداحوں نے اسے ’فراری جیسی گاڑی نہیں‘ قرار دیا ہے۔

تاہم کمپنی کے سربراہ بینیڈیٹو وگنا تنقید مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’لُوچے‘ مستقبل کی علامت ہے اور خریداروں کی جانب سے اس میں بھرپور دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: فراری کا الیکٹرک میدان میں قدم، غیر متوقع منافع کے ساتھ نئی تاریخ رقم کرنے کو تیار

ماہرین کے مطابق فراری کا یہ جرات مندانہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں چینی برقی گاڑیوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور روایتی کار ساز ادارے بھی اپنی برقی حکمتِ عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp