دفاع پر سمجھوتا سنگین غلطی تھی،’ ڈنمارک کے اعتراف نے پاکستان کا مؤقف درست ثابت کردیا’

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے اعتراف کیا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے فوجی صلاحیتوں اور دفاعی اخراجات میں کمی ایک سنگین غلطی ثابت ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ یورپ نے یہ فرض کر لیا تھا کہ کسی بھی بحران کی صورت میں امریکا اس کے دفاع کے لیے آگے آئے گا، تاہم بدلتے ہوئے عالمی حالات نے اس سوچ کی کمزوری واضح کر دی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی بجٹ ریکارڈ حد تک بڑھانے اور فلاحی منصوبے محدود کرنے کا منصوبہ پیش کردیا

میٹے فریڈرکسن نے زور دیا کہ یورپی ممالک کو اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے خود کو قابل بنانا ہوگا اور اپنی بقا کو دوسروں کے سیاسی فیصلوں یا ترجیحات سے وابستہ نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق موجودہ عالمی ماحول میں دفاعی صنعت کو جدید بنانا اور عسکری صلاحیتوں میں فوری اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم کا یہ بیان ان حلقوں کے لیے بھی اہم پیغام ہے جو دفاعی اخراجات کو غیر ضروری قرار دیتے رہے ہیں۔ یورپ جیسے ترقی یافتہ خطے کی قیادت آج اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ قومی سلامتی پر سرمایہ کاری کوئی اضافی خرچ نہیں بلکہ ریاست کے وجود، خودمختاری اور استحکام کی بنیادی ضمانت ہے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ علاقائی اور عالمی کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ مضبوط دفاعی صلاحیت کسی بھی ملک کی پہلی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان کے دفاعی بجٹ پر تنقید کرنے والے حلقوں کے مؤقف پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ قومی دفاع ایسا شعبہ ہے جس میں غفلت کی قیمت نسلوں کو چکانا پڑ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا خوف: بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی ہے کہ معاشی ترقی اور قومی سلامتی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں، اور ایک محفوظ ملک ہی پائیدار ترقی کی منزل حاصل کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp