پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم کی جاتی ہے تو اس میں گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ اگر ملک میں کہیں آئینی ترمیم کی ضرورت ہے تو یہ نہایت اہم ہے کہ اس کے تحت گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
گلگت بلتستان کے فیصلے اسلام آباد میں بیٹھا بابو اور جو نام نہاد وزیر پھر رہا ہے، وہ نہیں، یہاں کے عوام کریں، کہتے ہیں وسائل نہیں ہیں، وفاق کنگال ہو چکا، اگر ایسا ہے تو سب سے پہلے آزادکشمیر و گلگت بلتستان کی وزارت ختم کریں، بلاول بھٹو pic.twitter.com/y2WbdbMj2V
— WE News (@WENewsPk) June 1, 2026
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان کو این ایف سی میں حصہ ملنا چاہیے، یہ خطہ سوئٹزرلینڈ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، خواجہ سعد رفیق
حقِ حکمرانی کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے
انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقِ حکمرانی کی جدوجہد کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں انتخابات ایک ہی وقت میں منعقد کیے جائیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ جب گلگت بلتستان اور باقی پاکستان میں بیک وقت انتخابات ہوں گے تو حقِ حکمرانی کی جدوجہد حقیقی معنوں میں آگے بڑھے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ اگر ہم گلگت بلتستان کے عوام کے حقِ حکمرانی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو ہماری کوشش اور مطالبہ یہی ہونا چاہیے کہ یہاں انتخابات پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ ہی کرائے جائیں۔
گلگت بلتستان کے حقِ ملکیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ دوسری جماعتیں ہر چیز اسلام آباد سے چلانا چاہتی ہیں، جبکہ ہم اس کے خلاف ہیں۔
اجتماع کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آپ اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں اور آپ نے اس کے نتائج بھی بھگتے ہیں کہ آپ کے مستقبل کے فیصلے اسلام آباد میں کیے جاتے رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے بارے میں فیصلے وہاں کے عوام کو خود کرنے چاہییں۔
وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان ختم کرنے کا مطالبہ
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کے وجود پر بھی سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کے وزیر رکھنے کا کیا فائدہ ہے؟ اس وزارت کو ختم کر دینا چاہیے۔ ’کہا جاتا ہے کہ وفاق کے پاس وسائل نہیں ہیں، اگر واقعی ایسا ہے تو سب سے پہلے اسی وزارت کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد تمام سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات گلگت اور مظفرآباد کی اسمبلیوں کو منتقل کر دیے جائیں۔‘
وسائل پر مقامی عوام کا حق
بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ بعض دیگر سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ آپ کے پہاڑ، زمین کے اندر موجود معدنی وسائل اور ماربل ان کے وسائل ہیں، حالانکہ یہ ان کے نہیں بلکہ آپ کے وسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر گلگت بلتستان اور شگر کے عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار دیا جائے تو نہ صرف وہ معاشی ترقی کریں گے بلکہ اسلام آباد کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔
نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا عزم
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے عوام کے حق روزگار کے حصول کے لیے بھی کام کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ میرا یقین ہے کہ گلگت بلتستان، شگر اور پورے پاکستان کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب آپ کو حقِ ملکیت حاصل ہوگا۔ جب ایسا ہوگا تو آپ صرف اپنے نوجوانوں ہی کو نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لوگوں کو بھی روزگار فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا بنیادی مقصد وہاں کے عوام کو ان کے حقوق دلانا ہے۔
مزید پڑھیں: سعد رفیق کا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو این ایف سی سے حصہ دینے کا مطالبہ
آئندہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ فارم 45 کا انتظام کریں، فارم 47 کا انتظام میں کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ انتخابی دن گھروں سے نکلیں، پولنگ اسٹیشنوں پر جا کر اپنا ووٹ ڈالیں اور فارم 45 حاصل کرنے کے بعد واپس جائیں۔














