آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے 9 جون کو احتجاج کے اعلان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے تنازعات بالآخر مذاکرات کی میز پر حل ہوتے ہیں، تاہم آزاد کشمیر میں مسلسل احتجاجی سیاست سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب زیادہ تر مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہو تو احتجاج پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی انتشار کا تاثر دیتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جمہوری عمل، آئینی اداروں اور مذاکراتی راستے کو نظر انداز کرتے ہوئے سڑکوں پر دباؤ بڑھانا آزاد کشمیر کے پُرامن ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مطالبات تسلیم ہونے کے بعد احتجاج کی ضرورت کیوں؟
مبصرین کے مطابق جب زیادہ مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہوں تو عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ آیا مقصد واقعی مسائل کا حل ہے یا احتجاج کو مستقل سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا مقصود ہے۔
ان کے بقول اگر مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہے تو 9 جون کے احتجاج کی ضرورت اور جواز پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
مذاکرات کو نظر انداز کرنے پر تشویش
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جمہوری معاشروں میں مسائل کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات ہی سب سے مؤثر اور مہذب راستہ تصور کیے جاتے ہیں، جبکہ مسلسل احتجاج، ہڑتالوں اور دباؤ کی سیاست سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اجتماعی نقصان جنم لیتا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبات تسلیم کررہی ہے تو پھر مذاکرات کے عمل سے گریز کی وجوہات بھی واضح ہونی چاہییں۔
استحکام اور جمہوری عمل کو ترجیح دینے کی ضرورت
مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کو اس وقت سیاسی استحکام، مکالمے اور جمہوری عمل کے تسلسل کی ضرورت ہے۔ ان کے خیال میں بلا جواز احتجاج نہ صرف عوامی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ انتخابی ماحول اور اداروں پر عوامی اعتماد کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
عوامی نمائندگی کا اصل تقاضا کیا ہے؟
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندگی کا بنیادی تقاضا مسائل کو حل کی طرف لے جانا ہے، نہ کہ نئے بحران پیدا کرنا۔ ان کے مطابق اگر ہر پیشرفت اور ہر حل کے بعد احتجاج کا نیا مرحلہ شروع ہو جائے تو اس سے قیادت کے مقاصد کے بارے میں سوالات پیدا ہونا ایک فطری ردعمل ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جب 99 فیصد مطالبات پر پیشرفت ہو چکی ہو تو 9 جون کے احتجاج کا اعلان عوامی حقوق کی جدوجہد سے زیادہ سیاسی ضد کے تسلسل کا تاثر دے سکتا ہے، جس پر عوامی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔














