اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (این پی سیز) سعودی ریال اور متحدہ عرب امارات کے درہم میں بھی جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم ان کرنسیوں پر منافع کی شرح امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے کم رکھی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 16 ملین ڈالر کا اضافہ
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کیے گئے سرکلر کے مطابق تمام بینکوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وزارتِ خزانہ نے سعودی ریال (SAR) اور اماراتی درہم (AED) میں بھی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ساتھ ہی مختلف کرنسیوں میں سرمایہ کاری پر منافع کی نئی شرحیں بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
اعلان کے مطابق سعودی ریال اور اماراتی درہم میں سرمایہ کاری پر 3 ماہ کے لیے 6.50 فیصد، 6 ماہ کے لیے 6.75 فیصد اور ایک سال کے لیے 7 فیصد منافع دیا جائے گا۔ 3 سالہ اور 5 سالہ سرٹیفکیٹس پر بالترتیب 7.25 فیصد اور 7.50 فیصد منافع مقرر کیا گیا ہے۔
امریکی ڈالر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 3 ماہ کے لیے 6.75 فیصد، 6 ماہ کے لیے 7 فیصد اور ایک سال کے لیے 7.25 فیصد منافع ملے گا، جبکہ 3 اور 5 سالہ مدت کے لیے شرح منافع بڑھا کر بالترتیب 7.50 فیصد اور 7.75 فیصد کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی روپے میں سرمایہ کاری پر سب سے زیادہ منافع کی پیشکش کی گئی ہے۔ روپے میں 3 ماہ کے لیے 11.75 فیصد، 6 ماہ کے لیے 12 فیصد اور ایک سال کے لیے 12.25 فیصد منافع مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 3 اور 5 سالہ سرٹیفکیٹس پر بالترتیب 12.50 فیصد اور 12.75 فیصد منافع دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنانے کا فریم ورک متعارف
یورو میں سرمایہ کاری پر سب سے کم منافع رکھا گیا ہے، جہاں 3 ماہ کے لیے 4.75 فیصد، 6 ماہ کے لیے 5.25 فیصد اور ایک سال کے لیے 5.50 فیصد شرح منافع مقرر کی گئی ہے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹس بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کا ایک پرکشش ذریعہ بن چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 12 ارب 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی رقوم پاکستان منتقل کی جا چکی ہیں، جن میں سے 62 فیصد سے زائد سرمایہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں لگایا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے آنے والی مجموعی رقوم میں سے قریباً 8.15 ارب ڈالر مقامی معیشت میں استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان پر واجب الادا قابلِ واپسی خالص ذمہ داری قریباً 2.44 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔














