بھارتی فوج کے سابق میجر گورو آریا کے حالیہ بیان کے بعد آزاد کشمیر میں سرگرم بعض عناصر اور تنظیموں کے کردار سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
میجر گورو آریا نے یہ اعتراف کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں کچھ مخصوص عناصر ان کے براہِ راست رابطے میں ہیں اور وہ صرف ایک اشارے کے منتظر ہیں۔
بلی تھیلے سے باہر آ گئی! 🔥
انڈین میجر گورو آریا نے خود اعتراف کر لیا کہ آزاد کشمیر میں لوگوں سے رابطے کر رکھے ہیں اور اب صرف ایک اشارے کا انتظار ہے۔
اے کشمیریوں اور پاکستانی عوام!
“دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا”
جو تمہیں “آزادی” کا جھانسہ دے رہے ہیں، وہ دراصل بھارتی… pic.twitter.com/kCpWDjR4II— TARIQ MASOOD BUTT🇵🇰 (@BUTT_566) June 3, 2026
اس بیان کو بعض حلقوں کی جانب سے خطے میں جاری سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی تحریکوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق الزامات
بھارت کے سابق فوجی آفیسر کا دعویٰ اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر چلنے والی بعض سرگرمیوں کے پس پردہ بیرونی اثر و رسوخ موجود ہو سکتا ہے۔
اس ضمن میں عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر سرحد پار عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔
حقوق کے حصول کے نام پر سامنے آنے والی تحریک اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر دکھائی دیتی ہے، بلکہ اس کے پس منظر میں آزاد کشمیر کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کی کوششیں کارفرما ہو سکتی ہیں۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کے تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش
بعض عناصر پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے مختلف سیاسی اور عوامی نعروں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
ایسی صورت میں عوام کو چاہیے کہ وہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور ایسے بیانیوں سے محتاط رہیں جن کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہو کہ وہ خطے میں انتشار یا بداعتمادی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
بظاہر عوامی ہمدردی کے دعوے کرنے والے بعض افراد کے کردار اور روابط کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔














