آسٹریلیا میں وائلڈ لائف حکام نے ایک بڑی کارروائی کے دوران غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے کاکروچ بریڈنگ آپریشن کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد نایاب کاکروچز برآمد کر لیے ہیں۔
یہ کارروائی سڈنی کے مغرب میں واقع قصبے باتھرسٹ میں کی گئی جہاں محکمہ ماحولیات کے اہلکاروں نے ایک کمرشل بریڈر کے احاطے پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران ماداگاسکر ’ہِسنگ‘ کاکروچ اور ڈوبیا کاکروچ برآمد کیے گئے جو عموماً پالتو رینگنے والے جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
حکام کے مطابق برآمد شدہ کیڑوں کی بلیک مارکیٹ میں مجموعی مالیت تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 2 لاکھ آسٹریلوی ڈالر) بتائی گئی ہے۔
محکمہ ماحولیات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا اپنے منفرد ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور قومی ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کاکروچز سے مگرمچھ تک، لالاموو کے رائیڈرز کو ملنے والی حیران کن ڈیلیوریز نے سب کو چونکا دیا
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں غیر ملکی کاکروچز کی غیر قانونی بریڈنگ اور تجارت کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس پر پالتو جانوروں کی صنعت سے وابستہ افراد اور مالکان کو واضح وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق برآمد شدہ کیڑوں کو تلف کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاہم یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا کیونکہ یہ کیڑے اپنی سخت جان خصوصیات کے باعث مشہور ہیں اور ان کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یہ انتہائی سخت حالات میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔














