آزاد کشمیر میں 9 جون کے احتجاج سے قبل عوام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔
ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون 2026 کو دی گئی ہڑتال اور احتجاج کی کال غیر ضروری، بلاجواز اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
ایک بیان کے مطابق ایسی سرگرمیوں سے عام شہریوں، مریضوں، طلبہ، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے امن و امان برقرار رکھنے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے مختلف نوٹیفکیشنز کے تحت 14 ہزار، 90 ہزار اور 20 ہزار نفری پر مشتمل فورسز کی ریکوزیشن جاری کردی ہے۔
حکومت کے مطابق ان حفاظتی انتظامات کا مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا، ریاستی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور علاقے میں امن، ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیز سرگرمی، غیر قانونی اجتماع، سڑکوں کی بندش، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے یا عوامی زندگی مفلوج کرنے کی کوشش کا حصہ نہ بنیں۔
پرامن شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور افواہوں، نفرت انگیز بیانات اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے دور رہیں۔
جو عناصر بدامنی، انتشار، جلاؤ گھیراؤ، راستوں کی بندش یا عوام کے جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کریں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح کیا گیا ہے کہ ریاست کسی کو بھی عوامی امن خراب کرنے، شہریوں کے حقوق پامال کرنے یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
عوام کا تحفظ، امن کا قیام اور قانون کی بالادستی حکومت آزاد جموں و کشمیر کی اولین ذمہ داری ہے۔














