آزاد کشمیر کے امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی و تجزیہ کار خواجہ اے متین نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتی، ان کے اسی رویے کے باعث معاملات اس نہج پر پہنچ گئے کہ حکومت کو تنظیم کو کالعدم قرار دینا پڑا۔ اور اب کالعدم قرار دیے جانے کے بعد تنظیم کی تمام سرگرمیاں قانونی طور پر ممنوع ہوگئی ہیں اور اب اسے کسی بھی قسم کی سرگرمی کی اجازت حاصل نہیں ہوگی۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ تنظیم گزشتہ کچھ برس سے عوامی حقوق کے نام پر سرگرم ہے، لیکن سرکاری فورم پر خود کو رجسٹر کروانے پر آمادہ نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ ایک سیاسی جماعت یا تنظیم کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہوتا ہے، دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں اپنے منشور کے ساتھ عوام کے سامنے جاتی ہیں، ووٹ حاصل کرتی ہیں اور پھر اقتدار میں آ کر اپنے وعدے پورے کرنے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس راستے کے بجائے دھرنوں اور احتجاج کے ذریعے مطالبات منوانے کا طریقہ اختیار کیا۔
تنظیم کی رجسٹریشن اور احتجاجی سیاست پر تنقید
خواجہ اے متین کا کہنا تھا کہ بارہا انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ خود کو رجسٹر کروائیں، تاہم انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
ان کے مطابق ریاست پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت نے ماضی میں ان کے مطالبات بھی تسلیم کیے، جن میں بجلی کے نرخوں سمیت دیگر معاملات شامل تھے، لیکن اس کے باوجود تنظیم نے اپنے آپ کو قانونی دائرہ کار میں لانے کی کوشش نہیں کی۔
انہوں نے کہاکہ دنیا کے کسی بھی نظام میں اداروں اور قوانین کے مطابق کام کیا جاتا ہے اور سیاسی عمل بھی اسی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھتا ہے۔
پرتشدد احتجاج اور ریاستی مؤقف
سینیئر صحافی نے کہاکہ گزشتہ برسوں میں مختلف احتجاجی مظاہروں کے دوران گاڑیاں جلائی گئیں، سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، ایک پولیس انسپکٹر کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا جبکہ متعدد پولیس اہلکار اور سیکیورٹی فورسز کے ارکان زخمی ہوئے۔
ان کے مطابق درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں اہلکار تشدد کا نشانہ بنے، جن کے سر پھوڑے گئے اور ہڈیاں تک توڑی گئیں۔
انہوں نے کہاکہ جب کوئی تنظیم پرتشدد راستہ اختیار کرتی ہے، ریاستی اداروں کو تسلیم نہیں کرتی اور قانونی حیثیت اختیار کرنے سے بھی انکار کرتی ہے تو ایسے حالات میں ریاست ردعمل دینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
مہاجرین نشستوں کے معاملے پر مؤقف
خواجہ اے متین نے کہاکہ حکومت نے حال ہی میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیاکہ اگر مہاجرین کی 12 نشستوں میں کوئی تبدیلی یا خاتمہ مقصود ہے تو اس کا واحد راستہ پارلیمنٹ ہے اور اس کے لیے دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئینی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں نے مذاکرات اور بحث کے لیے آمادگی ظاہر کی، لیکن جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس عمل کا بائیکاٹ کیا۔
کالعدم قرار دینے کی وجوہات
انہوں نے کہاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت اس تاثر میں مبتلا ہو گئی تھی کہ ماضی میں ریاست کی جانب سے اختیار کی گئی نرمی ان کی طاقت کا نتیجہ ہے، حالانکہ ریاست نے کشمیری عوام کے مفاد میں درگزر اور لچک کا مظاہرہ کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اسی غلط فہمی اور ضد کے باعث صورتحال یہاں تک پہنچی کہ حکومت آزاد کشمیر نے صدر آزاد کشمیر کے نوٹیفکیشن کے ذریعے تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا۔
بیرونی ایجنڈے سے متعلق سوال
خواجہ اے متین نے کہاکہ اگرچہ یہ لوگ مقامی ہیں، تاہم جب کوئی گروہ مسلسل تصادم اور ہٹ دھرمی کی راہ اختیار کرے تو ایسے رویوں پر سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کا موجودہ آئینی اور انتظامی ڈھانچہ طویل سیاسی جدوجہد اور مدبر قیادت کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے چوہدری غلام عباس، سردار ابراہیم خان، سردار عبدالقیوم خان، خورشید حسن خورشید اور دیگر رہنماؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے، اسمبلی، عدلیہ اور حکومتی ڈھانچہ دھرنوں یا لانگ مارچ کے ذریعے حاصل نہیں کیا گیا بلکہ سیاسی حکمت عملی اور مسلسل جدوجہد سے وجود میں آیا۔
انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں اس نوعیت کی تنظیم کو ایک دن بھی برداشت نہیں کیا گیا اور کالعدم قرار دے دیا گیا، جبکہ آزاد کشمیر میں سیاسی اور آئینی آزادی کا ماحول موجود ہے۔
ان کے مطابق آزاد کشمیر کی حکومت، عدلیہ اور الیکشن کمیشن بااختیار ادارے ہیں اور ان کا مقبوضہ کشمیر سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی
خواجہ اے متین نے کہاکہ کالعدم قرار دیے جانے کے بعد تنظیم کی تمام سرگرمیاں قانونی طور پر ممنوع ہو جاتی ہیں۔ نہ کوئی میڈیا ادارہ ان کے بیانات نشر کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں جلسے جلوس یا دیگر سرگرمیوں کی اجازت حاصل رہتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر اس کے باوجود ایسی سرگرمیاں جاری رکھی گئیں تو ریاستی قانون حرکت میں آئے گا اور متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور ممکنہ آپریشن
انہوں نے دعویٰ کیاکہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ریاستی کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 16 ہزار اہلکار مختلف علاقوں میں تعینات کیے جا رہے ہیں اور مزید نفری بھی طلب کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ریاست کسی کو سرکاری املاک، ڈیموں، دفاتر یا اسمبلی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتی کیوںکہ ماضی میں بھی توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
حکومت کی تبدیلی اور موجودہ صورتحال
خواجہ اے متین نے کہا کہ سابق وزیراعظم انوار الحق کی حکومت کے خاتمے اور نئی حکومت کے قیام کا مقصد بعض معاملات کو بہتر بنانا تھا، تاہم اس حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہاکہ بعض حلقے مہاجرین نشستوں کے خاتمے کے حامی تھے، تاہم ریاستی فیصلے کے بعد اب وہ بھی اس مؤقف کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں کہ نشستوں کا معاملہ آئینی طریقے سے ہی طے ہونا چاہیے۔
انتخابات بروقت ہوں گے یا نہیں؟
آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو متوقع انتخابات کے حوالے سے سوال کے جواب میں خواجہ اے متین نے کہاکہ انتخابات بروقت ہونے چاہییں، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث بعض سوالات ضرور پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے حالیہ سیکیورٹی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حالات کا جائزہ لینا ہوگا، لیکن چونکہ انتخابی شیڈول جاری ہو چکا ہے اس لیے توقع یہی ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے۔
ریاستی کارروائی ناگزیر قرار
خواجہ اے متین نے کہا کہ بعض معاملات ایسے مرحلے پر پہنچ جاتے ہیں جہاں صرف انتظامی اور قانونی کارروائی ہی واحد راستہ رہ جاتی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ایک ایسے مرض سے تشبیہ دی جس کا علاج صرف آپریشن کے ذریعے ممکن ہو۔
انہوں نے اس بات سے اتفاق کیاکہ دنیا بھر میں مسائل کا مستقل حل مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے، تاہم ان کے مطابق مذاکرات دو طرفہ عمل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے کئی گھنٹوں پر مشتمل مذاکرات کیے اور بارہا بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا، لیکن دوسری جانب سے مطلوبہ آمادگی نہیں دکھائی گئی۔
جمہوری عمل ہی واحد راستہ
خواجہ اے متین نے کہاکہ اگر کوئی گروہ واقعی عوامی حمایت رکھتا ہے تو اسے سیاسی جماعت بنا کر انتخابات میں حصہ لینا چاہیے اور عوام سے ووٹ حاصل کرکے اسمبلی میں پہنچنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ اگر جتھوں اور طاقت کے ذریعے سیاست کا راستہ اختیار کیا جائے تو پھر ہر علاقے میں مختلف گروہ کھڑے ہو سکتے ہیں، جس سے ریاستی نظام متاثر ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کی تمام بڑی سیاسی شخصیات اور جماعتیں عوامی حمایت رکھنے کے باوجود جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کرتی ہیں، اسی لیے سیاسی اختلافات کا حل بھی آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے اندر ہی تلاش کیا جانا چاہیے۔












