پے پال نے جنوبی ایشیا کے ملک سری لنکا میں باضابطہ طور پر اپنی سروسز کا آغاز کردیا ہے۔ 15 مئی 2026 کو ہونے والی تقریب میں وزیراعظم ہرینی اماراسوریا نے اعلان کیاکہ ابتدائی مرحلے میں یہ سروس بینک آف سیلون، کمرشل بینک آف سیلون اور سمپتھ بینک کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جبکہ مزید بینکوں کی شمولیت بھی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ اس پیشرفت کو سری لنکا کے ڈیجیٹل شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کاروباری افراد اور فری لانسرز پے پال کی مکمل سہولت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے قبل صارفین صرف ادائیگیاں کر سکتے تھے، مگر رقوم وصول کرنے کی سہولت محدود تھی۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں پے پال سروس شروع کرنے کے لیے حکومت کیا کوشش کررہی ہے؟
دوسری جانب پاکستان میں پے پال کی دستیابی کے لیے کئی برسوں سے کوششیں جاری ہیں، تاہم کمپنی نے اب تک ملک میں براہ راست آپریشنز شروع نہیں کیے، جس کے باعث پاکستانی فری لانسرز اب بھی متبادل پلیٹ فارمز جیسے پیونئیر پر انحصار کرتے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ مختلف حکومتوں کی کوششوں کے باوجود پاکستان میں پے پال کی سروسز کیوں شروع نہیں ہو سکیں؟
پاکستان میں قانونی اور ڈیجیٹل نظام ابھی اس معیار تک مضبوط نہیں، طاہر عمر
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی ٹی ایکسپرٹ طاہر عمر کا کہنا تھا کہ پے پال ایک ایسا قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جس پر دنیا بھر کے لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ اس اعتماد کی بنیادی وجہ اس کی مضبوط پالیسیاں، جدید سیکیورٹی سسٹم اور فراڈ سے بچاؤ کے مؤثر اقدامات ہیں۔ پے پال اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صارفین کے مالی معاملات محفوظ رہیں، اسی لیے عالمی سطح پر اس کی ساکھ مضبوط ہے۔
طاہر عمر کے مطابق، اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان سمیت بعض ممالک میں قانونی اور ڈیجیٹل نظام ابھی اس معیار تک مضبوط نہیں ہو سکے جہاں بین الاقوامی کمپنیاں خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کریں۔
انہوں نے کہاکہ اگر کسی ملک میں سائبر فراڈ، قانونی پیچیدگیاں یا صارفین کے تحفظ کے واضح قوانین موجود نہ ہوں، تو ایسی کمپنیاں وہاں اپنی خدمات فراہم کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔
طاہر عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنے سائبر لاز، ڈیجیٹل ریگولیشنز اور قانونی نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنانا ہوگا تاکہ پے پال جیسی عالمی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری اور خدمات فراہم کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کریں۔ جب انہیں یہ یقین ہوگا کہ کسی بھی فراڈ یا قانونی مسئلے کی صورت میں مؤثر کارروائی ممکن ہے، تو ان کا اعتماد بڑھے گا اور پاکستان میں عالمی ڈیجیٹل سروسز کے آنے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔
کمپنی فی الحال خود پاکستان میں قدم نہیں رکھنا چاہتی، طفیل احمد
گلوبل فری لانسرز یونین کے اعزازی صدر طفیل احمد خان کے مطابق پاکستان میں پے پال کی عدم موجودگی کی بنیادی وجہ حکومتی رکاوٹ نہیں بلکہ خود کمپنی کا پاکستانی مارکیٹ میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے متعدد بار پے پال سے رابطے اور ملاقاتیں کر چکے ہیں، تاہم کمپنی نے اب تک پاکستان میں اپنی سروسز شروع کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔
ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت غیر ملکی ادائیگی کمپنیوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، کیونکہ دیگر بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں اور مزید بھی پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں۔
طفیل احمد خان کا کہنا تھا کہ پے پال کے فیصلے کی اصل وجوہات سے وہ مکمل طور پر آگاہ نہیں، تاہم ان کے خیال میں یہ معاملہ کمپنی کی اندرونی پالیسیوں، کمپلائنس تقاضوں اور کاروباری ترجیحات سے متعلق ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیاکہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے کیونکہ اس حوالے سے ان کی پے پال انتظامیہ سے براہِ راست بات نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی مختلف حکومتوں نے پے پال کو ملک میں لانے کے لیے کوششیں کی ہیں اور اگر کوئی ایسی رکاوٹ موجود ہو جسے پاکستان کی جانب سے دور کیا جا سکتا ہو تو حکومت کو اس پر کام جاری رکھنا چاہیے تاکہ مستقبل میں پے پال کو پاکستان میں آپریشنز شروع کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔
کئی عوامل ہیں جن کی وجہ سے پے پال نے سروسز شروع نہیں کیں، محمد عمر اسلم
اسلام آباد میں ایک آئی ٹی کمپنی سے منسلک ٹیم لیڈر محمد عمر اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پے پال کی عدم موجودگی کی وجہ کسی ایک مسئلے تک محدود نہیں بلکہ یہ کاروباری، ریگولیٹری اور رسک مینجمنٹ سے جڑے کئی عوامل کا مجموعہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پے پال کسی بھی نئی مارکیٹ میں داخل ہونے سے قبل وہاں کے قانونی فریم ورک، مالیاتی ضوابط، منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات، صارفین کے تحفظ، تنازعات کے حل کے نظام اور کاروباری امکانات کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے۔
انہون نے کہاکہ اگر کمپنی کو یہ محسوس ہو کہ کسی مخصوص مارکیٹ میں آپریشنل لاگت، ریگولیٹری تقاضے یا ممکنہ خطرات متوقع منافع کے مقابلے میں زیادہ ہیں تو وہ وہاں براہِ راست خدمات شروع کرنے سے گریز کر سکتی ہے۔
عمر اسلم کے مطابق پاکستان فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے اور یہاں پے پال کی مانگ بھی موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ کمپنی کی عالمی کاروباری حکمتِ عملی اور ترجیحات پر منحصر ہوتا ہے۔
حکومت نے متعدد کوششیں کیں مگرکامیابی نہیں ملی
ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ متعدد حکومتی کوششوں اور مذاکرات کے باوجود پے پال نے اب تک پاکستان میں براہِ راست آپریشنز شروع نہیں کیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اگر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام، ریگولیٹری ماحول اور بین الاقوامی مالیاتی معیارات کے ساتھ ہم آہنگی کو مزید مضبوط بناتا ہے تو مستقبل میں عالمی ادائیگی کمپنیوں کے لیے مقامی مارکیٹ زیادہ پرکشش بن سکتی ہے۔
یاد رہے کہ جنوری 2026 میں وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان میں 5 جی سروس کے ساتھ ساتھ پے پال کو متعارف کرانے کے لیے بھی عملی پیشرفت جاری ہے، اور حکومت اس معاملے پر کام کر رہی ہے۔
شزا فاطمہ کی جانب سے ایسے بیانات متعدد بار دیے جا چکے ہیں، مگر یہ پیشرفت کہاں تک پہچ چکی ہے، اس کے حوالے سے سرکاری سطح پر کسی قسم کا کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔
مزید پڑھیں: کیا پاکستانی فری لانسرز کے لیے ’پے پال‘ سروسز کا آغاز محض ایک مارکیٹنگ اسٹنٹ تھا؟
صرف یہی نہیں اس سے قبل جنوری 2023 میں نگراں وزیر آئی ٹی ڈاکٹر عمر سیف کی جانب سے پاکستانی فری لانسرز کو پاکستان اور پے پال کے درمیان معاہدے کی خوشخبری سنائی گئی تھی کہ اب وہ جلد ہی اپنے مغربی ممالک کے کلائنٹس سے بذریعہ ’پے پال‘ معاوضے وصول کر سکیں گے، مگر ان روایتی بیانات کے علاوہ حکومتی سطح پر کبھی کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آئی۔
یاد رہے کہ پے پال کے حوالے سے پاکستان میں اس سے پہلے بھی مختلف حکومتی شخصیات کی جانب سے دعوے سامنے آتے رہے، لیکن 2024 میں یہ وضاحت بھی سامنے آئی کہ پے پال نے پاکستان میں براہ راست آپریشن شروع نہیں کیا، جبکہ پے پال اور پیونئیر کی عالمی شراکت داری کو بعض حلقوں میں غلط طور پر پے پال کی پاکستان آمد قرار دیا گیا تھا۔













