سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے اپنے خصوصی پیغام میں سمندری وسائل، بحری حیات اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سمندر محض ایک ماحولیاتی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی، معیشت اور زمین کے قدرتی توازن کی بنیادی اساس ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان جلد ترقی کے سفر میں چین کے ہم قدم ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف
وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندری آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ماحولیاتی دباؤ کے باعث بحری حیات کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے قومی اور عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مینگرووز کے وسیع پیمانے پر شجرکاری منصوبے ماحولیاتی بحالی، ساحلی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندری آلودگی کے خاتمے کے لیے ویسٹ مینجمنٹ نظام کو مزید مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
View this post on Instagram
جنید انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو ساحلی کٹاؤ، موسمیاتی خطرات اور محدود مالی وسائل جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث بحری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے بحری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات میں تیزی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو سمندری تحفظ اور ماحولیاتی شعور سے متعلق آگاہی مہمات میں فعال طور پر شریک کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
Today, we celebrate the vital role the ocean plays in sustaining all life on Earth.
By practicing sustainable diving and supporting marine protected areas, every PADI Torchbearer plays a vital role in ocean conservation. 💙
Happy #WorldOceanDay! 🌊 pic.twitter.com/1ZBO0IGLzm
— PADI (@PADI) June 8, 2026
مزید پڑھیں: انٹارکٹیکا میں 30 سال میں لاس اینجلس کے رقبے سے 10 گنا زیادہ برف پگھل گئی، تحقیق
وفاقی وزیر نے کہا کہ یورپی یونین کا ’اوشین آئی‘ اقدام بحری تعاون، تحقیق اور معلومات کے تبادلے کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ ڈیٹا شیئرنگ، سائنسی تحقیق اور بحری جدت کے شعبوں میں عالمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت، صنعت اور سول سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے سمندری وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو یقینی بنایا جائے گا، کیونکہ ساحلی معیشتوں کا مستقبل اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ سے وابستہ ہے۔











