دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

اتوار 26 جولائی 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ممتاز ادیب انتظار حسین کی ادارت میں ادبِ لطیف نے ایک سلسلہ شروع کیا تھا جس میں ایک سوال قائم کرکے اس پر مذاکرہ کروایا جاتا تھا۔

نومبر 1962 کے شمارے میں اس کا موضوع تھا: میرا ہم عصر۔ اس میں ناصر کاظمی نے اپنے تصورِ ہم عصر کی وضاحت کے لیے مضمون لکھا تھا جس میں بڑی پتے کی باتیں ہیں۔ ان کے ہم عصروں کا دائرہ زمانوں پر پھیلا ہے لہٰذا وہ کہتے ہیں: ’میں جب تازہ غزل کہتا ہوں تو میر کو بھی سناتا ہوں اور احمد مشتاق کو بھی۔‘

اس کے بعد وہ اپنے ایک اور ہم عصر کا تذکرہ کرتے ہیں:

’منیر نیازی تو اجاڑ مکانوں اور خاموش دروازوں کی زبان کو بھی سمجھتا ہے اور جب وہ سنسان گلیوں کو دیکھ کر روتا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ روتا ہوں۔‘

اس مذاکرے میں منیر نیازی کا نقطہ نظر ناصر کے نام خط کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس میں وہ ناصر کاظمی کو اپنا ہم عصر ٹھہرانے کے بعد اور بھی شخصیات کے نام لیتے ہیں: ’کیا منٹگمری کی تنہائیوں میں گھرا ہوا مجید امجد اپنا ہم سفر نہیں۔ شالا مار کے غار میں تپسیا کرتا ہوا سلیم الرحمان، رنگوں کی تلاش میں سرگرداں حنیف رامے، لائبریریوں کی مردہ گھروں جیسی فضا میں چھپا ہوا شیخ صلاح الدین، سبھی میرے ہم عصر اور ہم سفر ہیں۔ ہر وہ شخص جو میری طرح تلاش کے راستوں پر نکلا ہے میرا ہم عصر یا ہم سفر ہے۔ میر ہو یا کامیو۔‘

ناصر کاظمی کو اپنا ہم عصر بتانے پر منیر نیازی کو لسانی تشکیلات والے افتخار جالب کا طعنہ بھی سہنا پڑا تھا جن کے خیال میں ناصر کاظمی چار سال ہوئے ڈیڈ ہو چکا تھا۔ یہ حاکمانہ بیان نہ 1963 میں درست تھا نہ ہی آج 63 سال بعد اس کی وقعت ہے جب ناصر کو گزرے 54 برس گزر چکے ہیں۔ ناصر کی مقبولیت ماند نہیں پڑی۔ وہ آج بھی ہم عصر ہیں۔ انہیں پڑھا جا رہا ہے، ان کے بارے میں لکھا جارہا ہے اور گفتگو بھی ہورہی ہے۔ ان کی کتابوں کے کاپی رائٹس ختم ہوتے ہی مارکیٹ میں پہلے سے موجود ہونے کے باوجود کتنے ہی ناشروں نے ان کا کلیات شائع کیا ہے۔

ناصر اور منیر کے درمیان درد کا رشتہ بھی تھا، احمد مشتاق کی ناصر کاظمی کے بارے میں مرتبہ کتاب ’ہجر کی رات کا ستارا‘ میں شامل اپنے مضمون میں منیر نیازی نے لکھا تھا:

’عجیب بستیاں تھیں جن سے جدائی کی اداسی نے ہمیں شاعر بنادیا۔ چھوڑے ہوئے گھروں کی یاد نے کبھی ہمارا ساتھ نہ چھوڑا۔۔۔اس کی شاعری کے بنیادی احساس کو میں اس طرح جانتا ہوں جیسے کوئی اپنے دل کے زخم سے دوسرے کے دل کے زخم کو جانتا ہے۔‘

ان عجیب بستیوں کی یاد نے ناصر اور منیر کو شاعر بنایا تو ان کے دوست انتظار حسین کو فکشن نگار۔ یہی ذہنی وحدت تھی جس کی بنا پر انہوں نے کہا تھا:

’میری دوستی زیادہ تر شاعروں سے رہی، کسی افسانہ نگار سے دوستی نہیں ہوئی جیسے ناصر کاظمی، احمد مشتاق اور منیر نیازی۔ میرا مسئلہ یہ رہا ہے اس حقیقت سے پرے جو حقیقت ہے وہ کیا ہے؟ شاعری میں منیر نیازی کے ہاں یہ دیکھا تو مجھے لگا کہ جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہہ رہا ہے۔‘

منیر نیازی کے ایک اور ہم عصر جاوید شاہین بھی تھے۔ اس بات کا دستاویزی ثبوت آپ کو شاید کسی کتاب اور رسالے سے تو نہیں ملے گا البتہ منیر کے پنجابی مجموعہ کلام ’رستہ دسن والے تارے‘ کے اس نسخے سے میسر آئے گا جو انہوں نے جاوید شاہین کو دیا تھا اور چند سال پہلے مجھے فٹ پاتھ سے ملا تھا، اس پر منیر نے لکھا تھا:

’اک خوبصورت ہم عصر جاوید شاہین لئی‘

منیر نیازی کے بہت سے ہم عصروں میں سے ہم نے ان کے جس ہم عصر سے ان کے رشتے ناتے کا جائزہ لینا ہے وہ محمد سلیم الرحمان ہیں۔

گزشتہ دنوں سلیم صاحب کے حلقۂ احباب میں شامل ایک صاحب سے میں نے منیر نیازی کے ساتھ ان کا دوستی کا تذکرہ کیا تو ان کو بڑی حیرت ہوئی اور وہ کہنے لگے یہ تو میرے علم میں تھا کہ بہت سے دوسرے ادیبوں شاعروں کی طرح منیر نیازی سے بھی سلیم صاحب کی میل ملاقات تھی لیکن وہ ان کے حلقۂ یاراں میں شامل تھے، اس کی خبر نہ تھی۔ میں نے ان سے کہا اب سلیم صاحب کے مزاج میں ہی یہ بات داخل نہیں کہ وہ کسی سے تعلق کو اشتہار بنائیں لیکن اس دوستی کی ایک لمبی تاریخ ہے سو اسی رشتے پر بات کرنے کے لیے آج میں نے قلم کو حرکت دی ہے۔

محمد سلیم الرحمان کو منیر نیازی نے ہم عصر اور ہم سفر حضرات کی فہرست میں شامل کیا تھا لیکن منیر نیازی نے ان کا نام ایک اور فہرست میں بھی ڈالا ہے جس میں ان کے ساتھ جن دو دوستوں کو رکھا ہے وہ سلیم صاحب کے بھی دوست ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی انتظار حسین نے مشرق اخبار میں منیر نیازی کے پروفائل میں بیان کی تھی :

’منیر نیازی نے اپنی تنہائی میں صرف ایک انتظام کیا ہے کہ آس پاس چند ایسے رفیق ہونے چاہییں جو بقول اس کے اس کی گواہی دیتے رہیں۔ اپنے گواہوں میں جن کے نام اس نے مجھے لکھوائے ہیں وہ ہیں احمد مشتاق، سہیل احمد خان اور سلیم الرحمان۔‘

میری خوش قسمتی ہے کہ ان تین گواہوں سے میں نے ناصر کاظمی اور منیر نیازی کے بارے میں بہت سی باتیں سنی ہیں، خاص طور پر سلیم صاحب اور احمد مشتاق صاحب سے، سہیل احمد خان جلدی چلے گئے نہیں تو ان سے مزید جاننے کا موقع ملتا لیکن اس کی تلافی میں نے ناصر کاظمی اور منیر نیازی کے بارے میں ان کی تحریروں سے کی ہے۔

منیر نیازی ایک زمانے میں حنیف رامے کے ’نصرت‘ میں منوچہر کے قلمی نام سے لاہور کی ادبی ڈائری لکھتے تھے۔ اس میں انہوں نے بارہا سلیم صاحب کا ذکر خیر کیا۔ دوسروں کے بارے میں ان کا قلم شوخ ہو جاتا تھا لیکن سلیم صاحب کا تذکرہ ہر جگہ احترام کے پیرائے میں ہے۔

داروغہ والا میں ان کے گھر جانے کا احوال بھی وہ بیان کرتے ہیں۔ ایک جگہ ’سویرا‘ میں ان کی سترہ نظموں کی اشاعت کی خبر دی جس سے شاعر کے اس زمانے کے حلقۂ احباب کا بھی علم ہوتا ہے:

’شروع شروع میں یہ صرف ترجمے والے محمد سلیم الرحمان تھے مگر ساتھ ساتھ شاعر بھی ہوگئے۔ خاموش اور الگ تھلگ رہنے والے آدمی ہیں۔ ان کا حلقۂ احباب حنیف رامے، منیر نیازی، ناصر کاظمی، انتظار حسین، شیخ صلاح الدین، پیرزادہ احمد شجاع اور صلاح الدین محمود تک محدود ہے۔‘ نمونہ کلام ملاحظہ ہو:

’ہرے بھرے درخت، تم میری دنیا میں

اُن جنتوں کی یادگار ہو جنہیں میں کھو چکا

تمہارا ہلکا سبز پھن، کتنا اونچا

نیلے آسمان میں سرسرا رہا ہے

سورج کو ہمیشہ سبز رنگ واپس کرنے والے درخت

ہواؤں اور پرندوں کے گھنے بسیرے

جب پت جھڑ میں تمہارے نازک پتے

لال پیلے شعلوں کی طرح بکھر بکھر کر

خاک میں ملتے جاتے ہیں

تو میں دکھ سے پیلا پڑ جاتا ہوں

کہ ہر ٹوٹتے پتے میں

میری تھوڑی سی جان ضائع ہو جاتی ہے‘

کچھ عرصہ پہلے میں نے فیس بک پر سلیم صاحب کی ایک نظم شیئر کی تو بہت سے لوگوں نے اسے معاصر صورت حال کی عمدہ عکاسی قرار دیا۔ ایک صاحب نے اسے انقلابی نظم ٹھہرایا، اس نظم پر داد کے ڈونگڑے اچھی طرح برس گئے تو میں نے بتایا کہ یہ نظم 60 برس پرانی ہے اور ’سویرا‘ میں شائع ہونے کے بعد منیر نیازی کی مرتب کردہ کتاب ’1966 کی بہترین شاعری‘ کا حصہ بنی تھی۔

ایک بڑی نظم اور کیا ہوتی ہے کہ جب شائع ہو تو اسے منیر نیازی سا تخلیق کار پسند کرے اور 60 سال بعد وہ قاری کو تازہ لگے۔ سلیم صاحب کی یہ نظم آپ بھی ملاحظہ کیجیے:

آج کا کام کل پر چھوڑنے والوں کے نام

اُمید پہ دنیا قائم ہے لیکن کب تک

چپ چاپ رہیں۔

اُمّید کا پھل جب پک نہ سکے، اس کی تلخی

ہم کیسے سہیں؟

ہم ظلم کا رونا روتے ہیں گھر گھر جا کر،

اور گھر آ کر

ظالم سے ہمیں کچھ کہتے ہوئے رہتا ہے بہت

جھگڑے کا ڈر۔

ہم مظلوموں کا ہاتھ پکڑنے سے اتنا

کیوں ڈرتے ہیں؟

اَدھ کچرے سے جذبوں میں مگن ہم پوری طرح

نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔

یہ طفل تسلّی اور پھوکے نعروں کی جھڑی،

صاحب، کب تک؟

جو ظالم سے ہیں دست و گریباں وہ آخر

جائیں گے تھک۔

آ پہنچا وہاں دھارا خوں کا مظلوموں کی

گردن گردن۔

یاں پوچھتے پھرتے ہیں دنیا سے ظالم کا

ہم چال چلن۔

جب چڑھ کر دامن گیر ہو کل مظلوموں کے

خوں کا دریا،

یہ نہ ہو کہیں کچھ داد نہ اُس کو ہم سے ملے

اک چپ کے سوا۔

سلیم صاحب سے منیر نیازی کے بارے میں بعض نئی باتیں بھی معلوم ہوئیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ منیر نیازی کے ہاتھ میں اگر کوئی کتاب انہوں نے دیکھی تو وہ لیزلی چارٹریس کے ناول تھے جنہیں وہ انارکلی سے پرانی کتابیں بیچنے والے حضرات سے خرید لاتے تھے اور بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔ سلیم صاحب نے بتایا کہ اس مصنف نے ایک کردار ’سینٹ‘ تخلیق کیا تھا جو مظلوموں کا مددگار تھا۔

ان کے بقول ’ہو سکتا ہے کہ یہ کردار یا وہ کام جو اس نے خلق خدا کو ظالموں سے بچانے کے لیے اختیار کر رکھا تھا منیر کے دل کو بھا گیا ہو۔ ہم سب اپنے اپنے طور پر، نہ جانے کیا کچھ بننا چاہتے ہیں اور مکروہات زمانہ ہماری ایک نہیں چلنے دیتے۔‘

میری دانست میں یہ کردار شاید منیر نیازی کے اس طیب آدمی کے تصور پر پورا اترتا ہو جس کا وجود معاشرے کی فلاح کے لیے وہ ناگزیر سمجھتے تھے۔

منیر نیازی کو سلیم صاحب کی جو نظم پسند آئی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے اس میں بھی ظالم کے ہاتھ کو جھٹکنے سے پہلوتہی اور مظلوم کا ساتھ دینے سے گریز پر بات گئی ہے:

ہم مظلوموں کا ہاتھ پکڑنے سے اتنا

کیوں ڈرتے ہیں؟

منیر نیازی نے اپنی ادبی ڈائری میں یہ بھی لکھا تھا:

’سلیم کی تحریر کا بنیادی وصف یہ ہے کہ اس میں سرپرستی یا دشمنی نہیں ہوتی۔‘

سلیم صاحب کی تحریر کی خوبی کی بات سے میرا ذہن منیر نیازی کے بارے میں ان کی تحریروں کی طرف منتقل ہوتا ہے جو میرے خیال میں منیر نیازی پر لکھی گئیں بہترین تحریریں ہیں۔ اس کی ایک مثال ’دشمنوں کے درمیان شام‘ میں شامل ان کا تعارف ہے جس سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’منیر مسافر بھی تو ہے شام کا مسافر۔ کہتے ہیں سفر وسیلۂ ظفر ہے۔ ہو گا۔ منیر کے ہاں تو سفر وسیلۂ خبر ہے۔ نامعلوم کی خبر۔ دراصل یہ سفر ہے ہی ایسی چیز، ایک دفعہ آدمی چل کھڑا ہو تو پھر لوٹتا نہیں۔ تم ان سیمنٹ کے خولوں سے بڑے بڑے جھڑوس شہروں سے باہر نکلو تاکہ خود کو پا سکو۔ خواہشات اور علائق کے ’دشت بلا‘ کو جس نے پار کر لیا سمجھو نروان پا لیا۔ صبح ہو یا شام، منیر کے ہاں سفر کا ذکر چھڑا رہتا ہے اور مصرعے پرندوں کی طرح پر تولتے رہتے ہیں۔ منیر شمالی یورپ کے دیوتا Odin کی طرح ہے جس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ دو کوے اڑتے رہتے تھے، اور کوا تمہیں پتا ہے مستقبل کی خبر دیتا ہے کہ کون یا کیا آنے والا ہے؟ اس کی خبر یا جھلک تو منیر کی نظموں ہی میں مل سکتی ہے میں تو یہ بتا سکتا ہوں کہ جانے والا کون ہے۔

صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر

ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

ریل کی سیٹی سے بڑا اب سفر کا سمبل کیا ہو گا؟ رختِ سفر باندھ لو۔۔۔ میں چلا۔

انور سجاد نے ’رات کے مسافر‘ کے عنوان سے ایک کتاب ترتیب دی تھی جس کے لیے سلیم صاحب نے منیر نیازی کی 33 نظمیں منتخب کی تھیں۔ اس کے تعارف میں انہوں نے لکھا:

’منیر نیازی کے اندر ایک بہت قدیم اور اوائلی آدمی چھپا ہوا ہے یہ آدمی تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے غار سے نکل کر بدلے ہوئے زمین آسمان کو افسوس اور حیرت سے دیکھتا ہے اور آہ بھر کر واپس چلا جاتا ہے۔ یہ چیزوں کو ہماری نظر سے نہیں دیکھتا۔ اسی لیے منیر نیازی کے بیان کیے ہوئے منظروں میں نرالی سے اجنبیت ہوتی ہے۔‘

معروف نقاد شمیم حنفی نے انتظار حسین اور محمد سلیم الرحمٰن کو منیر نیازی کا رمز شناس قرار دیا تھا کیوں کہ ان صاحبان نے ان کے بقول ’منیر کی شاعری کے سلسلے میں رسمی تنقید نگاروں سے الگ انداز اپنایا ہے اور معین اصطلاحوں میں منیر کی شاعری کو قید کرنے کے بجائے اپنے تاثر کا اظہار کیا ہے۔‘

سلیم صاحب نے منیر نیازی کے اردو شعری مجموعوں ’جنگل میں دھنک‘ اور ’ماہ منیر‘، پنجابی مجموعہ کلام ’چار چپ چیزاں‘ اور دو پنجابی ڈراموں پر مشتمل کتاب ’قصہ دو بھراواں دا‘ پر پاکستان ٹائمز میں تبصرے کیے تھے۔

منیر نیازی کے ’نصرت‘ رسالے سے تعلق پر ایک کتاب تیار ہو سکتی ہے، اس میں ادبی ڈائری کے علاوہ ان کا کلام بھی باقاعدگی سے شائع ہوتا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں لکھنے کا معاوضہ ملتا تھا۔ اس میں منیر نیازی کی کتابوں پر تبصرے بھی شائع ہوئے تھے۔

’جنگل میں دھنک‘ پر سلیم صاحب کا تبصرہ 1961 میں چھپا جس میں منیر نیازی کا جو شعر نقل ہوا ہے اسے حنیف رامے کی ڈرائنگ کے ساتھ بڑے خوبصورت انداز میں ’نصرت‘ نے اپنا سرورق بنایا تھا:

کل دیکھا اک آدمی اٹا سفر کی دھول میں

گم تھا اپنے آپ میں جیسے خوشبو پھول میں

سویرا میں فرمان فتح پوری کے مضمون ’منیر نیازی: نئی رت کا شاعر‘ کی بھی سلیم صاحب تعریف کرتے ہیں۔

ایک دفعہ سلیم صاحب کو منیر نیازی نے بتایا تھا کہ تقسیم سے پہلے خانپور میں سیلاب آتا تو ان کا خاندان کمال پور چلا جاتا تھا اور صورت حال بہتر ہونے پر واپس لوٹ آتا۔ تقسیم ہوئی تو ان کا خاندان ہجرت کرکے منٹگمری آن بسا، ان کی ضعیف نانی کو صحیح طرح اندازہ نہیں تھا کہ کیا قیامت گزر گئی ہے اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ یہ سیلاب کی وجہ سے خانپور سے کمال پور منتقل ہونا ہے اور معمول کے مطابق واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے لیکن منٹگمری میں کچھ عرصہ مزید گزرا تو انہوں نے گھر کی خواتین سے کہاکہ تمہارا کمال پور میں کچھ زیادہ ہی جی لگ گیا ہے تو کیا اب وقت آ نہیں گیا کہ ہم واپس خانپور لوٹ جائیں۔

خانپور منیر میں رچ بس کر جس تخلیقی پیرہن میں ظاہر ہوا اس نے انتظار حسین کو بھی مبتلائے رشک کیا۔ ان کے بقول ’جب منیر اپنے خانپور کو پکارتا ہے تو میرا بھی ایک بستی کو پکارنے کو جی چاہتا ہے۔‘

انتظار حسین نے لکھا ہے کہ حلقہ اربابِ ذوق میں یہ نظم سناتے ہوئے منیر نیازی رو پڑے تھے:

جن گھروں سے ہم نے ہجرت کی

خانپور! اے خانپور!

تیری گلیوں میں تھیں کیسی کیسی پیاری پیاری صورتیں

مسجدوں کے سبز در اور مندروں کی مورتیں

خانپور! اے خانپور!

کنڈ پانی کے پہاڑوں کی دراڑوں میں چھپے

صوفیوں کی خانقاہیں تیری حد سے کچھ پرے

خانپور! اے خانپور!

آم کے تاریک باغوں میں ہوا چلتی ہوئی

قوس اک رنگوں کی کوہ و دشت پر ڈھلتی ہوئی

خانپور! اے خانپور!

تیرے چپ دیوان خانوں میں بڑوں کے قہقہے

شادیوں کی محفلوں میں چشم و لب کے جمگھٹے

خانپور! اے خانپور!

اپنے ہونے کی تسلی، تیرے ہونے کا خیال

مٹ رہے ہیں رفتہ رفتہ یہ کشش انگیز جال

خانپور! اے خانپور!

سلیم صاحب نے بتایا کہ منیر نیازی کو فلموں میں کام کرنے کی آفر بھی ہوئی تھی۔ وہ خوبصورت انسان تھے اور ان کے مداح ان کی مشابہت معروف اداکار کلارک گیبل سے ملاتے تھے۔ منیر نیازی نے صحافت بھی کی، سیاست میں بھی تھوڑے سرگرم ہوئے، ناشر بھی بنے، لیکن مزاج کے اعتبار سے وہ شاعر تھے اور انہوں نے کسی ایسے ہنر میں مدعی بننے کی کوشش نہیں کی جس میں وہ اپنی آزادی برقرار نہ رکھ سکتے تھے۔ دوسروں سے بھی وہ یہی توقع رکھتے تھے:

جو ہنر جس میں نہیں ہے مدعی اس کا ہے وہ

کوئی اپنی اصل کو اپنا نشاں کرتا نہیں

ایک دفعہ سلیم صاحب نے منیر نیازی سے پوچھا تھا کہ فلمی گیت نگاری، صحافت، سیاست اور اداکاری میں قسمت آزمائی کیوں نہیں کی تو اس کا سیدھا سا جواب تھا کہ ان سب میں آپ کو دوسروں کا تابع فرمان بن کر رہنا پڑتا ہے جو آپ کے برابر کے نہیں ہوتے، جبکہ شاعری میں وہ آزاد رہ کر اپنی مرضی کے مطابق تخلیق کرسکتے تھے۔

سلیم صاحب ان کی شاعری کے مداح تو ہیں، ان کی دوستی پر بھی انہیں ناز ہے، ان سے پیار کرتے ہیں، ان کے ساتھ گزرا وقت بھی انہیں یاد آتا ہے جس میں ایک زمانے میں تو خاصا تسلسل بھی رہا: ’یہ میری خوش قسمتی ہے کہ زندگی میں دس بارہ سال ایسے بھی آئے جب منیر نیازی سے ہر ہفتے بشرطے کہ وہ لاہور میں موجود ہو دو تین بار ملاقات ضرور ہوتی تھی۔‘

سلیم صاحب ان کی بذلہ سنجی اور برجستہ جملوں کے بڑے قائل ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’منیر کو ارتجالاً کمال کے فقرے سوجھتے تھے۔ طنز کی دھار بڑی تیز ہوتی تھی۔۔۔ ان آب دار جملوں کو ہاتھ کے ہاتھ لکھ لیا جاتا تو ’ملفوظاتِ منیر‘ کے نام سے بڑی پرلطف کتاب مرتب ہو سکتی تھی۔“

سلیم صاحب نے بتایا کہ کالم لکھنا منیر کے لیے ایک آفت تھی جس سے وہ بہت جلد اکتا جاتے تھے اور پھر دوستوں اور شناساؤں سے پوچھتے پھرتے تھے کہ کوئی دلچسپ بات یا چھوٹا موٹا قصہ سناؤ جس کی مدد سے وہ کالم پورا کر سکیں۔

سلیم صاحب نے اردو کے بہت سے شاعروں کی نظمیں انگریزی میں منتقل کی ہیں۔ منیر نیازی کی چند نظموں کا ترجمہ بھی ان کے قلم سے ہے جن میں سے ’سیرِ سحرِ آب زار بنگال‘ کو اس کی اصل صورت میں ملاحظہ کیجیے :

رخصتِ سرما کی صبح، سرد، نم، سنگین سی

خوابِ خاموشی کی تہہ میں اک جھلک رنگین سی

بانس کا جنگل، ہوا، پانی پرانی جھیل کا

سبز در پر رنگ جیسے آسماں کے نیل کا

گرتے جاتے شہر دونوں سمت اک انبار میں

کھنچتی جاتی خاکِ میداں ایک ہی رفتار میں

ہلتے جاتے نقش سے کچھ پھیلتی دیوار پر

بجھ کے گرتے حرف سے حدِ سفر آثار پر

ہر طرف خوشبو ہوا میں، بن میں، قربِ آب کی

ایک پراسرار خواہش دل میں مرگِ آب کی

2006 میں شیراز راج حلقہ ارباب ذوق کے سیکریٹری منتخب ہوئے تو ان کے حق میں ڈالے جانے والے ووٹوں میں ایک قیمتی ووٹ منیر نیازی کا بھی تھا جس کے لیے سلیم صاحب نے خاص طور پر سفارش کی تھی۔ اس سال کے آخر میں سلیم صاحب کو اپنے عزیز دوست کی موت کا دکھ سہنا پڑا تھا۔

سلیم صاحب کے دل سے منیر نیازی کی محبت کبھی کم نہیں ہوئی۔ ان کے جانے کے بعد بھی وہ انہیں ذاتی حوالے سے بھولے نہ ہی انہیں تخلیق کار کے طور پر فراموش کیا۔ ان کی محفلوں میں ان کا تذکرہ رہتا ہے۔ ایک دن مجھے سلیم صاحب اور ڈاکٹر خورشید رضوی کی منیر نیازی کے بارے میں خوبصورت گفتگو سننے کا موقع بھی ملا۔

2016 میں سلیم صاحب نے نیوز آن سنڈے میں ان کے بارے میں انگریزی کالم لکھا۔ 2020 میں کراچی ریویو میں ڈاکٹر سمیرا اعجاز کی کتاب ’منیر نیازی ایک شخص اور شاعر‘ اور انہی کی مرتبہ کتاب ’کلیاتِ نثرِ منیر نیازی‘ پر ایک ساتھ تبصرہ کیا۔

2016 میں سلیم صاحب نے اپنے چند دوستوں کے لیے نظمیں لکھیں تو ان میں منیر نیازی بھی شامل تھے:

بس اک خیال کہ ہے کون جس کو دیکھا تھا

کسی وصال میں لرزاں جو آ سمایا تھا

مزاجِ یار کی تہہ تک پہنچ سکا نہ کوئی

ستم میں جس کے بھلائی کا شائبہ سا تھا

سوادِ موسمِ گُل میں یہ سبز راہِ سفر

قدم قدم پہ تری خلوتوں کا دھوکا تھا

ہو بام و در یا دریچہ یا کوئی راہ گزر

شبِ ملال میں ماہِ منیر تنہا تھا

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ نے چوتھی بار صدارتی انتخاب لڑنے کی خواہش ظاہر کر دی، آئینی پابندیوں پر نئی بحث چھڑ گئی

روس کا یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام، تفریحی کیمپ پر ڈرون حملے میں 12 ہلاکتیں

’ایس اینڈ پی‘ کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، معاشی ماہرین کی رائے کیا ہے؟

آزاد کشمیر انتخابات: سیاسی سرگرمیاں عروج پر، ووٹرز میں بھرپور جوش و خروش

کوئٹہ کراچی شاہراہ پر بدامنی، ٹرین سروس کی غیر یقینی صورتحال، شہری مہنگے فضائی سفر پر مجبور

ویڈیو

روس کا یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام، تفریحی کیمپ پر ڈرون حملے میں 12 ہلاکتیں

’ایس اینڈ پی‘ کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، معاشی ماہرین کی رائے کیا ہے؟

آزاد کشمیر انتخابات: سیاسی سرگرمیاں عروج پر، ووٹرز میں بھرپور جوش و خروش

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار