بھارت نے گزشتہ ماہ مغربی بنگال میں وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی کامیابی کے بعد قریباً 5 ہزار بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کردیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی نے 10 کروڑ سے زیادہ آبادی والی مشرقی سرحدی ریاست مغربی بنگال کے انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کی تھی۔ انتخابی مہم کے دوران پارٹی نے غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی، اخراج اور ملک بدری کا وعدہ کیا تھا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش بھارت سرحد پر ہلاکتوں کے خلاف ڈھاکا میں احتجاج کا اعلان
بھارت اور مسلم اکثریتی بنگلہ دیش کے درمیان طویل اور نسبتاً غیر محفوظ سرحد موجود ہے، جہاں معاشی مشکلات اور خاندانی روابط کے باعث ہجرت کا سلسلہ تاریخی طور پر جاری رہا ہے۔
حراستی مراکز کے قیام کا حکم
اقتدار سنبھالنے کے بعد مغربی بنگال کی نئی حکومت نے غیر دستاویزی بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے حراستی مراکز قائم کرنے کا حکم دیا۔ روہنگیا ایک مسلم اکثریتی برادری ہے جو میانمار میں مظالم کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئی تھی۔
ریاست کے وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اتوار کے روز دارالحکومت کولکتہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قریباً 5 ہزار بنگلہ دیشی شہریوں کو سرحد پار واپس بھیجا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے ان بنگلہ دیشی دراندازوں کی ملک بدری کا عمل شروع کر دیا ہے جو شہریت ترمیمی قانون کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔
4800 افراد ملک بدر، مزید 836 زیر حراست
ان کے مطابق حکومت نے مئی میں ریاست کے تمام اضلاع میں حراستی مراکز قائم کیے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان مراکز سے اب تک 4800 بنگلہ دیشی دراندازوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت 836 افراد حراستی مراکز میں موجود ہیں اور حکومت جلد انہیں بھی ملک بدر کرنے کے انتظامات کر رہی ہے۔
امیگریشن پر سیاسی کشیدگی
ملک بدری کی یہ مہم ایسے وقت میں جاری ہے جب سرحدی ریاست میں امیگریشن کے مسئلے پر طویل عرصے سے سیاسی کشیدگی پائی جاتی ہے۔
بھارتی حکام ماضی میں تارکین وطن کو دیمک اور درانداز جیسے الفاظ سے بھی مخاطب کرتے رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی پالیسیوں اور بیانات نے بھارت کے 20 کروڑ سے زیادہ مسلمانوں میں عدم تحفظ اور احساسِ محرومی کو مزید بڑھایا ہے۔
ان کے مطابق پارٹی مذہبی شناخت کو غیر قانونی ہجرت کے مسئلے سے جوڑنے کی کوشش کررہی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحفظات
انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں بھارت پر یہ الزام بھی عائد کر چکی ہیں کہ اس نے مناسب قانونی کارروائی کے بغیر بنگالی زبان بولنے والے سینکڑوں مسلمانوں کو بنگلہ دیش دھکیل دیا تھا۔
بھارت اور بنگلہ دیش تعلقات
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات 2024 میں ڈھاکا میں آنے والے سیاسی انقلاب کے بعد کشیدہ ہوگئے تھے۔
اس انقلاب کے نتیجے میں اُس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا، جو نئی دہلی کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں اور بعد ازاں بھارت چلی گئی تھیں۔
مزید پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر کشیدگی، سینکڑوں افراد ہولڈنگ سینٹرز میں منتقل
فروری میں بنگلہ دیش میں نئی حکومت منتخب ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی ہے۔
اسی سلسلے میں بنگلہ دیش اور بھارت کی سرحدی فورسز کے سربراہان کی پیر کے روز نئی دہلی میں ملاقات بھی متوقع ہے۔













