کرکٹ کے میدان میں ہیرو صرف وہ نہیں ہوتے جو گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچاتے ہیں یا وکٹیں اکھاڑتے ہیں۔ لیکن کچھ ہیرو گیلریوں میں بھی جنم لیتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں بلا نہیں ہوتا، مگر ان کی آواز ہزاروں دلوں کی دھڑکن بن جاتی ہے۔ وہ اسکور بورڈ پر نظر نہیں آتے، مگر کھیل کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔پاکستانی کرکٹ کی ایسی ہی ایک لازوال داستان کا نام صوفی عبدالجلیل المعروف ’چاچا کرکٹ‘ ہے۔
کرکٹ سے محبت کی اس کہانی کی ابتدا 21 فروری 1969 کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوئی تھی۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کا پہلا دن تھا۔ سیالکوٹ کا ایک بیس سالہ نوجوان ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم، لبوں پر ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے اور دل میں اپنی ٹیم کے لیے بے پناہ محبت لیے اسٹیڈیم پہنچا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ صرف ایک میچ نہیں دیکھ رہا، بلکہ اپنی زندگی کی ایسی داستان کا پہلا ورق کھول رہا ہے جو آنے والے عشروں میں پاکستانی کرکٹ کا مستقل حوالہ بن جائے گی۔
یہ محض کرکٹ کا شوق نہیں تھا۔ یہ پاکستان سے عشق تھا۔ خود چاچا کرکٹ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا، اس میں کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی محبت بھی شامل تھی۔ وہ کسی ٹیم کا پرچم نہیں اٹھاتے تھے بلکہ پاکستان کا پرچم اٹھاتے تھے۔ ان کے لیے قومی پرچم صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ شناخت، محبت اور وابستگی کی علامت تھا۔
جوانی میں انہوں نے کرکٹر بننے کا خواب بھی دیکھا۔ سیالکوٹ میں اپنا کرکٹ کلب بنایا، وکٹ کیپنگ کی، مقامی میچ کھیلے، مگر قسمت نے انہیں میدان کے اندر نہیں بلکہ میدان کے باہر ایک مختلف کردار کے لیے منتخب کرلیا تھا۔
1973 میں وہ روزگار کی تلاش میں ابوظہبی چلے گئے۔ وہ چاہتے تو عام تارکین وطن کی طرح اپنی زندگی میں مصروف رہتے، مگر جب شارجہ میں پاکستان کے میچ ہونے لگے تو وہ تین تین بسیں بدل کر، تپتے صحرا کا سفر طے کرکے اور محدود آمدنی کے باوجود اسٹیڈیم پہنچتے رہے۔ وہ صرف میچ دیکھنے نہیں جاتے تھے بلکہ وہ میدان میں پاکستان کا پرچم لہرانے جاتے تھے۔
یہیں سے ایک نئی شناخت نے جنم لیا۔ سبز ہلالی پرچم کے رنگ کا کُرتا، سبز ٹوپی، ہاتھ میں قومی پرچم اور پاکستان کے حق میں گونجتے فلک شگاف نعرے۔ آہستہ آہستہ وہ خود ایک شناخت بن گئے۔ ایک ایسا چہرہ جسے دیکھ کر پاکستانی کھلاڑیوں کو حوصلہ ملتا، کمنٹیٹر مسکراتے اور دنیا جان جاتی کہ پاکستان میدان میں موجود ہے۔
پھر 18 اپریل 1986 آیا، شارجہ کا تاریخی فائنل۔ چیتن شرما کی آخری گیند۔ جاوید میانداد کا وہ ناقابلِ فراموش چھکا۔ پاکستان کی فتح اور گیلری میں موجود چاچا کرکٹ۔ وہ لمحہ صرف میانداد کا نہیں تھا، چاچا کرکٹ کا بھی تھا۔ جذبات کی شدت میں انہوں نے قریباً دو سو کلو مٹھائی تقسیم کی۔ برسوں بعد بھی وہ اس لمحے کو پوری طرح لفظوں میں بیان نہیں کر پاتے۔ یہی وہ دن تھا جب پاکستان نے میچ جیتا اور چاچا کرکٹ نے دل۔
پھر دنیا بدلتی گئی۔ ورلڈ کپ آئے، ورلڈ کپ گئے۔ 1999 کا عالمی کپ فائنل، 2011 کا سیمی فائنل، نیویارک میں 2024 کا پاک بھارت مقابلہ، خوشیاں بھی آئیں اور مایوسیاں بھی، مگر ایک چیز کبھی نہیں بدلی۔ گیلری میں لہراتا ہوا سبز ہلالی پرچم اور پاکستان کے حق میں گونجتے نعرے۔
کرکٹ کی کوریج کرنے والے صحافیوں اور شائقین کے لیے بھی چاچا کرکٹ کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے۔ مجھے بھی ان سے متعدد بار ملاقات کا موقع ملا۔ خاص طور پر 2012 میں سری لنکا میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان کے میچوں کے موقع پر ان سے کئی یادگار ملاقاتیں ہوئیں۔ سبز لباس، ہاتھ میں قومی پرچم اور چہرے پر ہمیشہ موجود مسکراہٹ کے ساتھ وہ اسٹیڈیم کے ماحول کا لازمی حصہ محسوس ہوتے تھے۔ انہی دنوں ان کے ساتھ ایک یادگار سیلفی لینے کا موقع بھی ملا جو آج بھی کرکٹ کے ان خوبصورت دنوں کی یاد دلاتی ہے۔
چاچا کرکٹ کی عظمت صرف پاکستان کی حمایت میں نہیں تھی، ان کی عظمت ان کے ظرف میں تھی۔ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ مخالف ٹیم یا کھلاڑی کے بارے میں کبھی نازیبا یا تلخ زبان استعمال نہ کرو۔ کھیل کو نفرت نہیں، محبت کا ذریعہ بناؤ۔ شاید اسی لیے سرحد کے اُس پار بھی انہیں عزت ملی۔
بھارت کے معروف کرکٹ مداح سدھیر گوتم کے ساتھ ان کی دوستی کھیل کی دنیا میں ایک خوبصورت مثال بن گئی۔ جب سدھیر پاکستان آئے تو چاچا کرکٹ نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا، مہمان بنایا اور لاہور گھمایا۔ یہ وہ پاکستان تھا جسے چاچا کرکٹ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے۔ ایک مہمان نواز، محبت بانٹنے والا پاکستان۔ ایک ایسا پاکستان جس کے لیے پرچم صرف کپڑا نہیں بلکہ شناخت ہوتا ہے۔
زندگی میں شاید سب سے بڑی قربانی انہوں نے 1999 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے موقع پر دی، جب انگلینڈ میں پاکستان کے میچز دیکھنے اور قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے انہوں نے اپنا گھر تک فروخت کر دیا۔
مالی مشکلات اور ذاتی محرومیوں کے باوجود انہوں نے کبھی شکوہ زبان پر نہ آنے دیا۔ ان کے نزدیک اصل دولت جائیداد یا سرمایہ نہیں، بلکہ وہ محبت اور احترام تھا جو انہیں دنیا بھر کے پاکستانیوں اور کرکٹ شائقین سے ملا۔
آج جب کرکٹ بتدریج ایک کاروبار میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے، جب سوشل میڈیا کی شہرت چند لمحوں میں لوگوں کو ’مداح‘ بنا دیتی ہے، تب چاچا کرکٹ کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل محبت اسپانسرشپ سے نہیں، قربانی سے ثابت ہوتی ہے۔
وہ نہ کپتان تھے، نہ کوچ، نہ سلیکٹر اور نہ ہی براڈکاسٹر، پھر بھی پاکستان کرکٹ کی تاریخ ان کے بغیر مکمل نہیں۔ کیونکہ کچھ لوگ ریکارڈ بک میں نہیں، قوم کے دل میں جگہ بناتے ہیں۔ چاچا کرکٹ انہی لوگوں میں سے ہیں۔
وقت گزرتا گیا، نسلیں بدلتی گئیں، کرکٹ کے انداز اور قوانین بدلتے گئے، مگر چاچا کرکٹ کا جذبہ نہ بدلا۔ یہی وجہ ہے کہ 4 جون 2026 کو جب قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان فیصلہ کن ایک روزہ میچ اختتام پذیر ہوا تو اس کے ساتھ چاچا کرکٹ نے بطور تماشائی اپنا 500واں میچ بھی مکمل کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ باقاعدگی سے اسٹیڈیم جا کر میچ دیکھنے کے سلسلے سے کنارہ کش ہو رہے ہیں۔
تاہم یہ کسی کہانی کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی کرکٹ سے محبت کی داستان کا آغاز پاکستان اور انگلینڈ کے میچ سے ہوا تھا، وہ چاہتے ہیں کہ اس داستان کا آخری یادگار منظر بھی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہی رقم ہو۔ اسی لیے ان کی خواہش ہے کہ اگست اور ستمبر 2026 میں انگلینڈ میں ہونے والی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کو بطور تماشائی اپنی آخری بین الاقوامی سیریز بنائیں۔ گویا نصف صدی سے زیادہ پر محیط اس سفر کا دائرہ وہیں مکمل ہو جہاں سے اس کی ابتدا ہوئی تھی۔
آج اگر قذافی اسٹیڈیم کی خالی نشستیں بول سکتیں تو شاید وہ بتاتیں کہ نصف صدی سے زائد عرصے تک ایک شخص یہاں صرف میچ دیکھنے نہیں آتا تھا، وہ امید لے کر آتا تھا۔ وہ پاکستان لے کر آتا تھا۔ مگر یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
چاچا کرکٹ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں، اسی جذبے، اسی مسکراہٹ اور اسی سبز ہلالی پرچم کے ساتھ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ گیلری میں کم دکھائی دیں گے، مگر پاکستانی کرکٹ کی یادداشت میں پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں رہیں گے۔
اور جب کبھی آنے والی نسلیں پاکستانی کرکٹ کی تاریخ لکھیں گی تو جاوید میانداد کے چھکے، عمران خان کا عالمی کپ، وسیم اکرم کے جادو اور بابر اعظم کی بیٹنگ کے ساتھ کہیں نہ کہیں ایک سبز کُرتے والے شخص کا بھی ذکر ضرور ہوگا۔
کیونکہ کچھ لوگ کھیل نہیں کھیلتے، وہ کھیل کی روح بن جاتے ہیں۔ اور چاچا کرکٹ ۔ ۔ ۔ پاکستانی کرکٹ کی اسی زندہ، مسکراتی اور دھڑکتی روح کا نام ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












