آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور میں احتجاجی اور لاک ڈاؤن کال کے حوالے سے شہریوں کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں، جہاں متعدد افراد نے کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی پر ممکنہ اثرات کے باعث تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں 9 جون کے احتجاج سے قبل ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم تنظیم قرار، نوٹیفکیشن جاری
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار طبقہ اور چھوٹے کاروبار ہوں گے، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مسائل کے حل کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
شہریوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر احتجاجی سرگرمیاں پرتشدد رخ اختیار کرتی ہیں تو اس سے علاقے کے امن و امان اور سماجی ہم آہنگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود پرامن ماحول کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کو آزاد کشمیر کے عوام نے مسترد کردیا۔ اگر احتجاجی سرگرمیاں پرتشدد رخ اختیار کرتی ہیں تو امن و امان اور سماجی ہم آہنگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اختلافات کے باوجود پرامن ماحول کو برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔@KulAalam pic.twitter.com/dh6klW85BM
— Media Talk (@mediatalk922) June 9, 2026
میرپور کے بعض تاجروں اور رہائشیوں کے مطابق شہر میں معمول کے مطابق متعدد مارکیٹیں اور کاروباری مراکز کھلے رہے اور روزمرہ سرگرمیاں جاری رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی سرگرمیوں کا تسلسل مقامی آبادی کے لیے اہم ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ فریق ہٹ دھرمی سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آئیں اور عوامی مسائل کا حل آئینی، قانونی اور جمہوری طریقوں سے تلاش کریں۔ ان کے مطابق طویل المدتی استحکام اور عوامی مفاد کے لیے مکالمہ ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔
مزید پڑھیں: مسائل حل ہونے کے باوجود تصادم کا راستہ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی انتشار کی راہ پر گامزن
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کا پرامن ماحول اور معاشی سرگرمیاں برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ عوامی مطالبات اور تحفظات کے حل کے لیے بامعنی مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔














