ریاستی اداروں کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے سے متعلق حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے مبصرین نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی کو کسی ایک صوبے یا قومیت سے منسوب کرنے کی کوشش نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والے بیانیے کو فروغ دینے کے مترادف بھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بعض ریاست مخالف حلقوں کی جانب سے پاکستان آرمی کا موازنہ برطانوی نوآبادیاتی فوج سے کرنا ایک گمراہ کن اور حقائق کے منافی مؤقف ہے، جس کا مقصد نسلی تقسیم کو ہوا دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کو نشانہ بنانے کے نتائج سنگین ہوں گے ، بھارتی آرمی چیف کے بیان پر پاک فوج کاسخت ردعمل
بعض ملک دشمن عناصر کے تبصروں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان آرمی کی شناخت کو اس کے اہلکاروں کے نسلی یا صوبائی تناسب کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قومی فوج کی شناخت اس ملک، آئین اور پرچم سے ہوتی ہے جس کی وہ حفاظت کرتی ہے، نہ کہ اس میں شامل افراد کی نسلی یا لسانی وابستگی سے۔
مبصرین کے مطابق قومی ادارے کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش ایک کمزور اور جانبدارانہ دلیل ہے، کیونکہ دنیا بھر میں افواج کو ان ممالک کے نام سے جانا جاتا ہے جن کی وہ نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہی منطق اختیار کی جائے تو دنیا کی متعدد افواج کو ان کے اکثریتی نسلی گروہوں کے نام سے پکارنا پڑے گا، حالانکہ ایسا کہیں نہیں ہوتا۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کو اس کے کسی نسلی گروہ کے نام سے نہیں جانا جاتا، نہ ہی چین کی فوج کو ’ہان آرمی‘ کہا جاتا ہے اور نہ ہی برطانوی فوج کو اکثریتی نسلی شناخت کے مطابق نیا نام دیا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق پیش کیے جانے والے دلائل عالمی ریاستی اور عسکری ڈھانچوں کی حقیقتوں کے سامنے برقرار نہیں رہتے اور ان کا مقصد مصنوعی تقسیم پیدا کرنا دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ برطانوی ہند کی فوج اور پاکستان آرمی کا تقابل تاریخی طور پر درست نہیں، کیونکہ برطانوی فوج ایک نوآبادیاتی طاقت کے سیاسی اقتدار کے تابع تھی جبکہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے، جو نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد وجود میں آئی۔ اس تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج ایک آزاد ریاست کا قومی ادارہ ہیں اور انہیں نوآبادیاتی فوج سے تشبیہ دینا تاریخی حقائق اور قیام پاکستان کی جدوجہد دونوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی منطق ریاستی ڈھانچے پر لاگو کی جائے تو پھر ہر صوبے اور انتظامی اکائی کی شناخت کو بھی اس کے سب سے بڑے قبائلی یا لسانی گروہ کے مطابق تبدیل کرنا پڑے گا، جو ایک غیر منطقی اور تقسیم پسند سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
مبصرین نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ریاستی اداروں میں مخصوص قومیتوں کی نمائندگی نہیں ہے۔ ان کے مطابق پشتون، بلوچ، سندھی، پنجابی، کشمیری اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد فوج، عدلیہ، سول سروس اور دیگر قومی اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں اور ملک کی تاریخ میں نمایاں کردار ادا کرتے آئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی اصل شناخت ان ہزاروں شہداء کی قربانیوں سے وابستہ ہے جن کا تعلق ملک کے مختلف حصوں، بشمول وزیرستان، سوات، بلوچستان، سندھ، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان سے رہا ہے۔ مختلف نسلی اور لسانی پس منظر رکھنے والے فوجی ایک ہی حلف کے تحت پاکستان کے دفاع، دہشتگردی کے خاتمے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ سوال اٹھانا کہ فوج کس قومیت یا صوبے کی ہے، ان ہزاروں پاکستانیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جنہوں نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی نہ پنجابی، نہ سندھی، نہ بلوچ، نہ پشتون اور نہ کشمیری فوج ہے بلکہ یہ پاکستان کی فوج ہے، جو ریاست پاکستان کی آئینی اور قومی ذمہ داریوں کی محافظ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ذمہ دار شہری ایسے بیانیوں کو مسترد کرتے ہیں جو نسلی تقسیم کو فروغ دیتے ہوں، کیونکہ قومی وحدت اور مختلف قومیتوں کا مستقبل ایک متحد پاکستان سے وابستہ ہے۔ مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر پھیلائی جانے والی تقسیم انگیز مہمات قومی ہم آہنگی کو متاثر نہیں کر سکتیں اور پاکستان کی مختلف قومیتوں کے درمیان موجود رشتے کو کمزور کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔














