چینی سائنس دانوں نے آسٹریلیا کے مغرب میں بحر ہند کی گہرائیوں میں وہیل مچھلیوں کا دنیا کا سب سے بڑا اور قدیم ترین قبرستان دریافت کرلیا جہاں تقریباً 53 لاکھ سال پرانے سیکڑوں فوسلز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لپشاور: سنسان راتوں میں چڑیل کا گشت، بسیرا قبرستان، معاملہ کیا نکلا؟
بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ حیران کن دریافت آسٹریلیا کے مغرب میں واقع ڈیامانٹینا کے علاقے میں کی گئی جہاں سمندر کی تہہ میں تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہڈیوں کا ایک وسیع سلسلہ پایا گیا۔ بعض مقامات پر اس کی گہرائی 7 ہزار میٹر تک ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے سنہ 2023 میں گہرے سمندر میں جانے والی آبدوز فینڈوژے کے ذریعے 32 تحقیقی مشنز مکمل کیے جن کے دوران مختلف اقسام کی چونچ دار وہیل مچھلیوں کے 485 فوسلز دریافت ہوئے۔
تحقیقاتی ٹیم نے روبوٹک بازوؤں کی مدد سے نمونے جمع کیے تو معلوم ہوا کہ مردہ وہیلز کی باقیات پر جیلی فش، نازک ستاروں جیسی سمندری مخلوقات، ہڈیوں کو خوراک بنانے والے کیڑے اور 2 خول رکھنے والی کئی جاندار اقسام آباد تھیں۔

سائنس دانوں کے مطابق ان میں سے بعض انواع ممکنہ طور پر سائنس کے لیے نئی ہیں جبکہ فوسلز میں وہیل کی ایک نئی معدوم شدہ نسل کے آثار بھی ملے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ژیاوٹونگ پینگ کے مطابق قبرستان کے حجم نے محققین کو حیران کر دیا۔
مزید پڑھیے: روس میں نیپولین کے 3 لاکھ فوجی کیسے مرے؟ قبرستان سے حاصل شدہ ڈین این اے سے نئے انکشافات
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ فوسلز کی تعداد کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ اس علاقے میں ایک کروڑ سے زائد وہیلز کی باقیات موجود ہوں جنہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 67 لاکھ ٹن کاربن کو سمندر کی تہہ میں محفوظ کیا ہوگا۔
محققین کے مطابق اس خطے میں موجود وی نما قدرتی گہرا حصہ مردہ وہیلز کو سمندر کی تہہ تک پہنچانے میں مدد دیتا رہا جس کے نتیجے میں لاکھوں برس کے دوران ہڈیوں کا یہ عظیم ذخیرہ وجود میں آیا۔
سائنس دانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ مردہ وہیلز کے قریب پائی جانے والی بعض مخلوقات وہی ہیں جو گرم پانی کے زیر سمندر چشموں اور قدرتی گیس کے اخراج والے مقامات کے آس پاس بھی دیکھی جاتی ہیں۔
تحقیق کے مصنفین نے ان مقامات کو سلفر پر منحصر جانداروں کے لیے ارتقائی مراکز اور حیاتیاتی راہداریوں سے تعبیر کیا ہے جو مختلف سمندری انواع کے ارتقا اور پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ناروے میں دنیا کا پہلا تجارتی کاربن ڈائی آکسائیڈ قبرستان قائم
امریکی ماہرِ سمندریات کریگ اسمتھ، جنہوں نے سنہ 1987 میں پہلی بار سمندر کی تہہ میں مردہ وہیل کے گرد آباد ایک ماحولیاتی نظام دریافت کیا تھا نے اس نئی دریافت کو انتہائی اہم قرار دیا۔ جبکہ امریکی ماہرِ آثار قدیمہ اسٹیفن گاڈفری نے اسے سنہ 1977 میں زیر سمندر گرم چشموں کے گرد موجود حیاتیاتی برادریوں کی دریافت کے برابر قرار دیتے ہوئے دنیا بھر میں مزید ایسے قبرستانوں کی تلاش پر زور دیا ہے۔














