سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

اتوار 14 جون 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سید بابر علی نے سینچری مکمل کرلی ہے۔ اس مناسبت سے ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے لمز میں گزشتہ دنوں تقریب ہوئی ہے۔ اس سے ہٹ کر بھی یہ سنگِ میل عبور کرنے پر تہنیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

فقیر سید اعجاز الدین نے 11 جون کو ڈان میں ’100 ناٹ آؤٹ ‘کے عنوان سے کالم لکھا ہے۔ اس میں بابر علی کی 2015 میں شائع ہونے والی خود نوشت Learning from Others کے تذکرے نے مجھے اس سوانح کے اردو ترجمے ’کمالِ ہم نشیں ‘سے دوبارہ رجوع کرنے پر اکسایا جس کا ترجمہ نذر حسین کاظمی نے کیا ہے۔

کتاب کے آغاز سے پہلے شیخ سعدی کا یہ شعر مع ترجمہ پڑھنے کو ملتا ہے:

کمالِ ہم نشیں در من اثر کرد

وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم

میرے ہم نشیں کا کمال مجھ پر اثر کر گیا

ورنہ میں تو وہی خاک ہوں جو تھا

اس کتاب میں بابر علی نے خاندان کے حالات، تعلیم، خاندانی کاروبار، کاروباری اخلاقیات، تعلیم کا فروغ، عوامی خدمات اور سیاستدانوں سے تعلقات کے بارے میں لکھا ہے۔

ذاتی طور پر مجھے کتاب کا وہ حصہ زیادہ پسند ہے جس میں انہوں نے ایچی سن کالج اور گورنمنٹ کالج میں گزرے دنوں کی کتھا رقم کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے کا یہ زمانہ میری دلچسپی کا خاص محور ہے۔ اس کتاب میں یہی وہ مقام ہے جہاں آپ بیتی اور جگ بیتی کی سرحدیں مل جاتی ہیں۔

اس میں 1930 اور 40 کی دہائی کے ان روشن دنوں کا تذکرہ ہے جب مختلف مذاہب کے لوگوں کے آپسی تعلقات خوشگوار تھے۔ ان میں تیر میر نہیں تھی۔ گلدستہ احباب میں بابر علی کو جو پھول زندگی بھر سب سے زیادہ عزیز رہا اس کا نام ہرچرن سنگھ براڑ ہے۔

فیروز پور کے ہرچرن سنگھ براڑ 1937 میں ایچی سن کالج میں داخل ہوئے تو اپنے ہم جماعت بابر علی سے ان کی جلد دوستی ہوگئی جو 1934 سے اس ادارے کے طالب علم تھے۔ پڑھائی لکھائی میں دونوں تیز تھے۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش جاری رہتی۔

ہرچرن سنگھ نے تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں بھی اپنی لیاقت کا سکہ جمایا۔ اس دوستی کا دائرہ ایچی سن کالج کی دیواروں سے باہر تک پھیلا ہوا تھا۔

بابر علی کی والدہ پردہ دار خاتون تھیں لیکن ہرچرن سنگھ سے ملنے میں انہیں عار نہ تھی‌۔ انہیں ہرچرن کو دیکھ کر رنجیت سنگھ کے دربار میں اہم عہدوں پر فائز اپنے اجداد یاد آجاتے تھے۔

بابر علی کے بقول ’جب ہرچرن ہمارے گھر آتا تو میری والدہ کہتی تھیں ہرچرن میرا بادشاہ ہے اور میرا بادشاہ آگیا ہے۔‘

ہرچرن اس مہربان ہستی کو اپنی ماں جیسی عزت دیتے تھے اور وہ بھی اپنے بیٹے سے ان کی دوستی پر خوش تھیں۔

ہرچرن کی حس مزاح بھی خوب تھی، بابر علی نے ایچی سن کالج میں پھل فروش مہر کا تذکرہ ہے جس کے دونوں دوست مقروض رہتے تھے۔ ایک دن قرض کے بوجھ تلے دبے ہرچرن نے مہر صاحب سے کہا: ’پھل کھانے سے ہمارے جسم میں اتنا خون نہیں بنتا جتنا تمہارے پھل کی قیمت چکانے میں سوکھ جاتا ہے۔ ‘

ہرچرن کو سیاست سے گہری دلچسپی تھی، بابر علی نے لکھا ہے کہ ایچی سن میں ہرچرن انگریزی اخبار ٹریبون کے قاری تھے جبکہ باقی سب سول اینڈ ملٹری گزٹ پڑھتے تھے۔ جب بھی معروف ہندوستانی سیاست دان لاہور میں جلسہ کرتے وہ ان میں ضرور شرکت کرتے۔

بابر علی نے موچی دروازے میں ان کے ہمراہ قائداعظم کی تقریر سننے کا ذکر کیا ہے۔ ہرچرن ہندوستانی قوم پرست جبکہ بابر علی مسلم لیگ اور پاکستان کے پرجوش حامی تھے لیکن سیاسی اختلافات کبھی دوستی کے رشتے میں دراڑ نہ ڈال سکے۔

بابر علی نے لکھا ہے کہ ایچی سن میں تعلیم کے دوران جب ہرچرن کے علم میں یہ بات آئی کہ گاندھی نے مرن بھرت رکھا ہے تو انہوں نے گاندھی جی کے نام خط میں ان کی زندگی کی دعا کی اور ان کے مشن کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ یہ خط گاندھی جی تک پہنچنے سے پہلے سی آئی ڈی کے ہاتھ لگ گیا جس نے اسے پرنسپل سی ایچ بیری کو بھجوا دیا تھا۔ اس پر پرنسپل نے ہرچرن کو طلب کر کے تنبیہ کی اور سیاست کے بجائے پڑھائی پر توجہ دینے کا فرمان جاری کیا۔

تقسیم کے بعد ہرچرن سنگھ مشرق پنجاب اسمبلی کے رکن اور ڈپٹی وزیر بنے تو انسپکٹر نے ان کے سامنے اپنے تھانے میں موجود ان کی فائل رکھی جس میں ایچی سن کالج کے پرنسپل سی ایچ بیری کا فیروز پور کے ڈپٹی کمشنر کے نام خط تھا۔

اس خط میں لکھا تھا: ’ہرچرن براڑ ایچی سن کا طالب علم ہے۔ یہ ایک چھپا ہوا زہریلا سانپ ہے جس پر تمہیں نظر رکھنی ہوگی۔ ‘

اپنے ایک ہونہار طالب علم کے بارے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا ادارے کے سربراہ کو زیب نہیں دیتا تھا جس نے اپنی قوم کے لیڈر کو ایک ہمدردانہ خط ہی تو لکھا تھا۔

اس خط کے بارے میں بابر علی کا تبصرہ ہے: ’یہ خط ڈپٹی کمشنر کو گیا اور وہاں سے ہرچرن کے گاؤں کے متعلقہ تھانے بھیج دیا گیا‌۔ یہ خط بھیجنے کی بات تقسیم سے پہلے کی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگریز اپنے سیاسی مخالفین پر کتنی کڑی نظر رکھا کرتے تھے۔ ہرچرن نے مجھے بتایا کہ وہ اس خط کو کانگریس پارٹی میں ایک امتیازی سند کے طور پر استعمال کر سکتا تھا۔ ‘

ایچی سن کالج کے بعد 1944 میں دونوں دوستوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کا رخ کیا، ان کے مضامین مختلف تھے۔ بابر علی نے فزکس اور کیمسٹری کے مضمون چنے۔ ہرچرن نے پولیٹیکل سائنس اور اکنامکس کا انتخاب کیا۔ اردو اختیاری کا مضمون دونوں نے لے رکھا تھا سو اس  کی کلاس میں یاروں کو اکٹھے ہونے کا موقع ملتا۔ اس کے علاوہ بابر علی کے بقول: ’جونہی مجھے کالج میں فارغ وقت ملتا تو میں ہرچرن سے مل لیتا۔ ‘

ایچی سن کے بعد گورنمنٹ کالج جانے کو بابر علی فائیو اسٹار ہوٹل سے ٹو اسٹار ہوٹل میں منتقل ہو جانے والا تجربہ قرار دیتے ہیں۔ اس لیے نئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں انہیں چند ماہ لگ گئے۔

اس زمانے میں لاہور میں عشق کی رسم عام تھی اور اس سلسلے کو بڑھانے کا ایک میدان گورنمنٹ کالج بھی تھا، گورنمنٹ کالج میں محبت کے کتنے ہی قصے پروان چڑھے۔

بابر علی کے زمانے میں گورنمنٹ کالج کے پرنسپل جی ڈی سوندھی تھے، ان کی بیٹیاں ارمیلا اور سونو وہیں زیر تعلیم تھیں۔

بابر علی نے ایک دفعہ اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے ارمیلا سے کہاکہ اس وقت آدھے لڑکے تم سے اور آدھے تمہاری بہن سے محبت کرتے تھے۔ اس پر ارمیلا نے پوچھا کہ وہ کس سے محبت کرتے تھے تو بابر علی نے جواب دیا کہ دونوں سے۔

ہرچرن سنگھ کی محبت کا افسانہ بھی گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران شروع ہوا۔ وہ بی اے میں تھے اور جس لڑکی پر وہ مر مٹے تھے وہ ایم اے کی طالب علم تھی۔ ہرچرن سکھ جاٹ تھے اور انہیں اپنے سدھو براڑ ہونے پر بڑا فخر تھا، اتفاق سے وہ لڑکی بھی جاٹ تھی۔

لڑکی کا خاندان سیاست میں سرگرم تھا، اس کے والد اور چچا اس وقت جیل میں تھے۔ ان کی رہائی کے بعد رشتے کا پیغام پہنچانے کے لیے دونوں دوستوں نے ایک درمیانی آدمی تلاش کیا۔ بات بن گئی اور ان کی شادی ہوگئی۔ لڑکی سردار پرتاب سنگھ کیروں کی بھتیجی تھی جو بعد میں مشرقی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔

تقسیم کے وقت بابر علی امریکا میں تھے اس لیے فسادات میں لاہور میں کیا قیامت گزری اس کے بارے میں ان کا انحصار اخبارات ہی پر رہا۔

دسمبر 1947 میں وطن واپسی کے بعد وہ آئی جی پولیس قربان علی خان سے ملے اور ہرچرن سنگھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہاکہ وہ اگر سرحد پر آسکتے ہیں تو وہ آئی جی کی جیپ پر انہیں سرحد پر بھیج دیں گے۔ اس ملاقات کا وقت طے ہوگیا۔ ادھر ان کے مددگار آئی جی تھے تو دوسری طرف ہرچرن اپنی طرف کے بااثر لوگوں کو جانتے تھے۔

یہ سرحدیں کھینچے جانے کے بعد ان کی پہلی ملاقات تھی جس کے دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا خون بہہ گیا تھا‌۔ ان دنوں پاکستان میں کیلے عام نہیں تھے تو ہرچرن ان کے لیے کیلے لے کر آئے تھے۔ بابر علی یارِ عزیز کے لیے امریکا سے ٹائیاں خرید کر لائے تھے۔ دونوں کی خوشی دیدنی تھی۔ اس ملاقات کی تلخ یاد بس یہی تھی کہ فوجیوں نے انہیں تحائف کا تبادلہ نہیں کرنے دیا۔

تقسیم کے بعد ہرچرن سنگھ سیاست میں چلے گئے۔ ڈپٹی وزیر، اڑیسہ اور ہریانہ کے گورنر کے عہدے سے مشرقی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے تک کا سفر طے کیا۔ ادھر سید بابر علی نے اپنے کاروبار کو بہت فروغ دیا، تعلیمی ادارے قائم کیے۔

بابر علی نے اپنے دوست حبیب اللہ اور ہرچرن سنگھ کے درمیان کاروباری شراکت داری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان میں اختلافات پیدا ہوئے اور شراکت ختم کرنے تک بات پہنچی تو تصفیے کے لیے بابر علی ثالث مقرر ہوئے۔ انہوں نے ہرچرن سنگھ کو حبیب اللہ کو 10 لاکھ دینے کے لیے کہا تو انہوں نے کوئی سوال اٹھائے بغیر 10 لاکھ روپے دے دیے۔ چند سال بعد ایک ملاقات میں انہوں نے کہاکہ اگر وہ ان کو 20 لاکھ روپے ادا کرنے کا بھی کہتے تو وہ بلا چوں و چرا ادا کر دیتے۔

1986 میں ایچی سن کالج کے 100 سال پورے ہونے پر سید بابر علی نے اسے ایک لائبریری عطیہ کی جو انہی کے نام سے موسوم ہوئی۔ اس کا افتتاح ہرچرن سنگھ براڑ کے ہاتھوں سے ہوا۔

بابر علی نے ہرچرن سنگھ کے امریکا میں دل کے بائی پاس کا انتظام کیا اور ان کی خواہش پر آپریشن کے دوران وہاں موجود رہے تھے۔

16 ستمبر 2009 کو اپنے دوست کے انتقال کے بعد بابر علی بھوگ کی رسم میں شرکت کے لیے ہرچرن کے گاؤں سرائے نانگا گئے۔ ان کے لیے ذاتی طور پر یہ صدمے کی گھڑی تھی کیوں کہ یہ پہلی دفعہ تھا کہ وہ اس مقام پر دوست کے بغیر موجود تھے۔

خود نوشت میں بابر علی نے لکھا ’میں اب  ہرچرن کی بیٹی سے رابطے میں رہتا ہوں اور میں اس کے بہت قریب ہوں‌۔ یہ ہرچرن کے ساتھ میرے تعلق کا تسلسل ہے‌۔ ہماری دوستی سات دہائیوں تک چلی اور بعض اوقات میں سمجھتا تھا کہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ ‘

تقسیم سے پہلے کی وہ دوستیاں جدائی جن کا مقدر بن گئی تھی، ان کے بارے میں میں پہلے بھی کئی دفعہ لکھ چکا ہوں لیکن بابر علی اور ہرچرن سنگھ کی کہانی میں یہ فرق ہے کہ یہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے یاروں کی کہانی ہے۔ سماجی رتبے اور تمول کی وجہ سے ان کے لیے آپس میں ملنے کے راستے کھلے رہے اور ان کی راہ میں وہ رکاوٹیں نہیں تھیں، جن کا سامنا کسی عام فرد کو کرنا پڑتا ہے۔

صرف ایک مثال دی جاتی ہے جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنے شہر اور بچھڑے ہوئے پیاروں کو کس طرح یاد کرتے رہے ہیں۔

چندی گڑھ میں سنتوش نے معروف دانشور قاضی جاوید کو بتایا تھا: ’میں سچ کہتی ہوں کہ ان سارے لمبے زمانوں میں ایک رات بھی ایسی نہیں آئی کہ میری آنکھ لگی ہو اور میں نے لہور کا، اپنی سہیلیوں کا، اپنی گلی کا سپنا نہ دیکھا ہو۔ ‘

دوست تو پھر بھی دور کی بات ہے، عام آدمی کو تو قریبی عزیزوں سے ملنے جلنے کے لیے ہفت خواں طے کرنا پڑتا رہا ہے۔ اس لیے ہم تقسیم کے فوراً بعد سرحد پر بابر علی اور ہرچرن سنگھ کی ملاقات سے لے کر تعلقات کی باقی تاریخ کے جائزے میں یہ بات محسوس کرسکتے ہیں کہ ان کے ربط ضبط میں اپنے اپنے ملک کی بااثر شخصیت ہونے کا کردار کس قدر نمایاں رہا تھا۔

ہرچرن سنگھ اور بابر علی کی یاری کی سب سے بڑی یادگار ایچی سن کالج ہے، اس ادارے نے اپنے ان طالب علموں کے تعلق کو اپنے ادارے کی دیواروں پر کندہ کردیا ہے۔ اس کی ایک نشانی سید بابر علی لائبریری کی صورت میں پہلے سے موجود تھی جس کا افتتاح ہرچرن سنگھ براڑ نے کیا تھا۔ تازہ ترین پیشرفت 10 جون کو سامنے آئی جب بابر علی عمر کی 100 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔

ہرچرن سنگھ براڑ کے گزرنے کے 17 برس بعد ایچی سن کالج میں ان کی یاد یوں تازہ ہوئی کہ کلاس روم نمبر 108 ان کے نام سے منسوب ہوئی جس کا افتتاح ان کی بیٹی ببلی براڑ نے کیا۔ اس کلاس روم کے لیے اپریل 2026 میں بابر علی نے 40 لاکھ روپے کا عطیہ دیا تھا۔

کمرے کے باہر نصب تختی پر ان کی طرف سے یہ الفاظ رقم ہیں: ’یہ کلاس روم سرائے نانگا ضلع فیروز پور سے تعلق رکھنے والے میرے دوست ہرچرن سنگھ براڑ (1922-2009) کی محبت بھری یاد کے لیے وقف ہے۔ ‘

کمرے کے باہر ہرچرن سنگھ کے بارے میں تعارفی تختی نصب ہوئی تو کمرے کے اندر کالج بلیزر میں ان کی تصویر آویزاں کی گئی ہے۔

سید بابر علی نے آن لائن اس تقریب میں شرکت کرکے دیرینہ دوست کے بارے میں گفتگو کی۔ کہاکہ ہرچرن اور اس کے اہل خانہ لاہور میں ان کے ہاں برابر آتے تھے جہاں میرا خاندان ان کا گرم جوشی سے استقبال کرتا تھا۔

اس تقریب کی ایک  معنویت یہ بھی ہے کہ لاہور کے دل میں آج بھی اتنی وسعت ہے کہ وہاں کا ایک ممتاز تعلیمی ادارہ مشرقی پنجاب کے ایک سابق وزیراعلیٰ کو نہ صرف یاد کر سکتا ہے بلکہ ان کی تکریم کی ایک ٹھوس نشانی کے افتتاح کے لیے ان کی بیٹی کو بھی مدعو کر سکتا ہے۔

ایچی سن کالج کے اعزازی ایلچی ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالیہ نے اس موقعے پر اپنی تقریر میں ہرچرن سنگھ اور سید بابر علی کی ہم نشینی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ’ان کی دوستی تقسیم کے جذباتی صدمے، وقت، اپنے پیشوں اور حب الوطنی سے ماورا تھی۔ یہ پاکستان اور انڈیا کے ان نوجوانوں کے لیے انسپریشن کا ذریعہ ہے جو کل کو جنوبی ایشیا کے رہنما بنیں گے۔ ‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp