آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے میچ میں بھارت نے پاکستان کو جیت کے لیے 171 رنز کا ہدف دے دیا۔
برمنگھم کے ایجبسٹن اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے مقابلے میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز اسکور کیے۔
بھارتی اننگز کا آغاز اچھا نہ رہا اور اسے ابتدا ہی میں 2 وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ پہلی وکٹ 6 رنز کے مجموعے پر گری جب شیفالی ورما 6 رنز بنا کر سعدیہ اقبال کی گیند کا نشانہ بنیں۔
اس کے بعد جمائیما روڈریگز صرف ایک رن بنا سکیں اور 18 کے مجموعی اسکور پر تسمیہ رباب نے انہیں پویلین واپس بھیج دیا۔
صرف 18 رنز پر 2 وکٹیں گرنے کے بعد بھارتی ٹیم دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی تھی، تاہم اوپنر سمرتی مندھانا اور کپتان ہرمن پریت کور نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا۔
سمرتی مندھانا نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 68 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جبکہ ان کی نصف سنچری نے بھارتی ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
17ویں اوور میں ہرمن پریت کور کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان نے میچ میں واپسی کی کوشش کی، لیکن رِچا گھوش نے اختتامی اوورز میں جارحانہ انداز اپناتے ہوئے تیز رفتاری سے رنز بنائے اور بھارتی ٹیم کو 170 رنز کے مضبوط مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آخری اوورز میں ان کی برق رفتار بیٹنگ سے بھارتی رن ریٹ میں نمایاں اضافہ ہوا۔
پاکستان کی جانب سے سعدیہ اقبال اور کپتان فاطمہ ثنا نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں اور بھارتی بیٹرز کو مزید بڑے اسکور سے روکنے کی کوشش کی۔
میچ شروع ہونے سے قبل دونوں ممالک کے شائقین کی بڑی تعداد اپنی اپنی ٹیموں کی حمایت کے لیے اسٹیڈیم پہنچ گئی تھی۔
ٹاس کے بعد دونوں ٹیموں کی کپتانوں نے ایک دوسرے سے روایتی انداز میں ہاتھ بھی نہیں ملایا۔
بھارتی کپتان ہرمن پریت کور نے ٹاس کے موقع پر کہاکہ پچ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دے رہی ہے، اسی لیے انہوں نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق گزشتہ ورلڈ کپ کی کارکردگی نے ٹیم کو اعتماد دیا ہے اور ان کی پوری توجہ اپنی منصوبہ بندی پر عمل درآمد پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے کہا کہ اگر ٹاس ان کے حق میں آتا تو پاکستان بھی پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی جاتی۔
انہوں نے کہاکہ ٹیم بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس کے پاس مضبوط بولنگ یونٹ موجود ہے۔
فاطمہ ثنا کے مطابق پچ بیٹنگ کے لیے مددگار نظر آتی ہے، تاہم پاکستان کے پاس بھی متوازن کمبی نیشن موجود ہے اور انہیں دونوں ٹیموں کے درمیان ایک سخت اور دلچسپ مقابلے کی توقع ہے۔














