پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سلیکشن اور سنٹرل کنٹریکٹ کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ڈیٹا اور کارکردگی پر مبنی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ کا 85 فیصد حصہ کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا جبکہ سلیکشن کمیٹی کا کردار صرف 15 فیصد تک محدود کر دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا ایم او یو: عارف حبیب اور محسن نقوی کی دلچسپ گفتگو
ان کا کہنا تھا کہ سلیکشن کے عمل کو انسانی مداخلت سے نکال کر جدید ڈیٹا بیس سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔
محسن نقوی نے کہا کہ سنٹرل کنٹریکٹ کے حصول کے لیے میڈیکل فٹنس لازمی شرط ہوگی جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت اور کارکردگی بھی سلیکشن کا بنیادی معیار ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں جدید ڈیٹا سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے ذریعے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جامع ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔
اس موقع پر پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے کہا کہ نئے سلیکشن اور سنٹرل کنٹریکٹ نظام کا بنیادی مقصد شفافیت، میرٹ اور احتساب کو فروغ دینا ہے۔
ان کے مطابق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 کرکٹ کے لیے الگ الگ کنٹریکٹ کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ کھلاڑیوں کو اپنے متعلقہ فارمیٹ میں ترقی کا واضح راستہ مل سکے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ کھلاڑیوں کی درجہ بندی عالمی معیار کے پرفارمنس ڈیٹا کی بنیاد پر ہوگی اور صرف رنز یا وکٹوں کے بجائے میچ پر اثرانداز ہونے والی کارکردگی کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ انفرادی اعدادوشمار کے بجائے میچ وننگ پرفارمنس کو ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈیٹا پر مبنی سلیکشن سسٹم گزشتہ سال سے نافذ ہے اور ڈسٹرکٹ سے ریجنل سطح تک کھلاڑیوں کا انتخاب الگورتھم اور کارکردگی کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ انٹرنل کنٹریکٹس کی تقسیم بھی اسی ڈیٹا بیس نظام کے تحت کی جا رہی ہے۔
عاقب جاوید کے مطابق نئے نظام میں سفارش، گروپنگ اور ذاتی پسند و ناپسند کی گنجائش کم ہو گئی ہے جبکہ ہر کھلاڑی کی سلیکشن اس کی ریکارڈ شدہ کارکردگی کی بنیاد پر ممکن ہوگی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹر حیدر علی کو معطل کردیا، وجہ کیا بنی؟
انہوں نے کہا کہ جدید ڈیٹا سسٹم انسانی غلطیوں کے امکانات کم کرنے اور سلیکشن کے عمل کو مزید شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پی سی بی حکام کے مطابق کھلاڑیوں، کوچز اور منتظمین کے لیے یکساں اور واضح معیار مقرر کر دیے گئے ہیں، جس سے پاکستان کرکٹ میں پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور میرٹ کلچر کو فروغ ملے گا۔













