اے آئی چشمے: سہولت کے ساتھ غلط معلومات اور پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آگئے

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے لیس اسمارٹ چشمے مستقبل کی سفری ٹیکنالوجی کے طور پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں لیکن ایک صحافی کے حالیہ تجربے نے اس ٹیکنالوجی کی خامیوں اور خدشات کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی چشمے نابینا افراد کی آنکھیں بن گئے، جانیے استفادہ کرنے والے کیا کہتے ہیں؟

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی صحافی لارا ہال نے پیرس میں ایک ویک اینڈ کے دوران رے بین میٹا اے آئی چشموں کو بطور سفری ساتھی استعمال کیا اور اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ چشمے راستہ بتانے، کرنسی تبدیل کرنے، مختلف زبانوں کا ترجمہ کرنے اور تاریخی مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوئے تاہم بعض مواقع پر ان کی فراہم کردہ معلومات متضاد اور غلط بھی نکلیں۔

صحافی کے مطابق ایفل ٹاور کے نیچے کھڑے ہو کر جب انہوں نے ٹاور کی اونچائی پوچھی تو چشموں نے پہلی بار 330 میٹر اور چند منٹ بعد 324 میٹر بتائی حالانکہ سرکاری طور پر ایفل ٹاور کی اونچائی 330 میٹر ہے۔ اس واقعے نے ان کے ذہن میں سوال پیدا کیا کہ اگر ایک آسانی سے تصدیق کی جانے والی معلومات میں فرق آ سکتا ہے تو دیگر معلومات پر کتنا اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

یہ اسمارٹ چشمے سنہ 2023 میں میٹا اور رے بین کی مالک کمپنی ایسیلور لکسوٹیکا نے متعارف کرائے تھے۔ رپورٹس کے مطابق سال 2025 میں ان کے 70 لاکھ سے زائد یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گوگل، سام سنگ اور ایپل بھی اسی نوعیت کی مصنوعات پر کام کر رہے ہیں۔

چشموں میں کیمرا، مائیکروفون، اسپیکر اور اے آئی اسسٹنٹ موجود ہوتا ہے جس کی مدد سے صارف تصاویر اور ویڈیوز بنا سکتا ہے، موسیقی سن سکتا ہے، سوالات پوچھ سکتا ہے اور اپنے سامنے موجود اشیا یا مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے۔

صحافی کا کہنا ہے کہ پیرس میں گھومتے ہوئے انہوں نے تاریخی مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں، فرانسیسی اخبارات اور کیفے کے مینیو کا ترجمہ کیا اور گوگل میپس کی آواز براہِ راست چشموں کے ذریعے سن کر راستہ تلاش کیا جو کافی حد تک مفید ثابت ہوا۔

تاہم بعض فیچرز توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ مثال کے طور پر اشیا کی شناخت کرنے والا فیچر بعض اوقات درست معلومات دیتا تھا جبکہ بعض مواقع پر صرف عمومی اور غیر واضح وضاحت فراہم کرتا تھا۔

مزید پڑھیے: اے آئی چشمے نابینا افراد کی آنکھیں بن گئے، جانیے استفادہ کرنے والے کیا کہتے ہیں؟

اس ٹیکنالوجی کے ساتھ پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان چشموں کو بعض افراد نے دوسروں کی معلومات یا اجازت کے بغیر ویڈیوز اور تصاویر بنانے کے لیے استعمال کیا، جس پر تنقید کی گئی۔ اس کے علاوہ یہ بھی رپورٹ ہوا کہ میٹا کی جانب سے صارفین کی بعض ریکارڈنگز اور ڈیٹا کا جائزہ لیا جا سکتا ہے تاکہ مصنوعات کو بہتر بنایا جا سکے۔

صحافی کے مطابق سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ یہ چشمے کتنے ذہین ہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ سفر کے اصل تجربے کو بہتر بناتے ہیں یا انسان اور اس کے اردگرد کی دنیا کے درمیان ایک نئی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ماضی میں راستہ بھول جانے پر لوگ مقامی افراد سے مدد لیتے تھے یا اتفاقاً نئی جگہیں دریافت کر لیتے تھے لیکن اب اے آئی چشمے ہر سوال کا جواب دینے لگے ہیں، جس سے سہولت تو بڑھتی ہے مگر سفر کے دوران ہونے والی انسانی ملاقاتیں اور غیر متوقع تجربات کم ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی جاپان جیسے ممالک میں جہاں زبان ایک رکاوٹ بن سکتی ہے اور خاصی مفید ثابت ہو سکتی ہے لیکن یورپ جیسے خطوں میں وہ اب بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ روایتی سفر کے تجربے سے بہتر ہے۔

مزید پڑھیں: مترجم آپ کی ناک پر، اے آئی عینک کا نیا کمال

صحافی نے نتیجہ اخذ کیا کہ اے آئی چشمے بعض معاملات میں سفر کو آسان ضرور بناتے ہیں لیکن ہر آسانی ضروری نہیں کہ سفر کو بہتر بھی بنا دے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp