پنجاب حکومت نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے بڑھتی ہوئی بدعنوانیوں سے فنکاروں، اداکاروں، ماڈلز اور پرفارمرز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پنجاب پرفارمرز ڈیجیٹل آئیڈینٹیٹی اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پروٹیکشن ایکٹ 2026 کا مسودہ تیار کیا ہے۔
یہ قانون خاص طور پر آواز کی کلوننگ، ڈیپ فیکس، جعلی انڈورسمنٹس اور سیاسی پیغامات کے لیے فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت، چہرہ، آواز، شکل و صورت اور دیگر پہچان کے غیر مجاز استعمال کو روکنے کے لیے لایا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسان جیسی ذہانت کب تک حاصل کرلے گی، یہ ترقی کتنی تشویشناک ہے؟
اس قانون کے لانے کی بنیادی وجہ اے آئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے سنگین مسائل ہیں۔ سوشل میڈیا پر بابر اعظم کی آواز میں گانے، مختلف اداکاروں کی جعلی ویڈیوز اور ڈانس کلپس، اور سیاسی یا کمرشل مقاصد کے لیے بنائے گئے ڈیپ فیکس تیزی سے وائرل ہورہے ہیں۔
اداکارہ حرا ترین نے حال ہی میں ڈرامہ کنٹریکٹس میں ایسی شقوں کی نشاندہی کی جن میں پروڈکشن ہاؤسز فنکاروں کی ڈیجیٹل لائکس پر مستقل ملکیت کا دعویٰ کررہے تھے، جس سے پوری انڈسٹری میں تشویش پھیل گئی۔
فنکار اور فلم میکر شمعون عباسی سمیت متعدد فنکاروں نے اس مسئلے پر آواز اٹھائی اور حکومت سے قانونی تحفظ کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ بل تیار کیا گیا۔
اس قانون کا مقصد فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت کو انٹلیکچوئل پراپرٹی کا درجہ دے کر انہیں مکمل کنٹرول دینا ہے۔ کسی بھی اے آئی جنریٹڈ مواد، ویڈیو، آواز کے استعمال کے لیے تحریری، واضح اور مخصوص اجازت لازمی قرار دی جائے گی، پروڈیوسرز اور اسٹوڈیوز کو اے آئی کے استعمال کا ڈسکلیمر دینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اردو کے فروغ کے لیے پاکستان کا نیا قدم، اے آئی سافٹ ویئر ’گرامورا‘ تیار
اس کے علاوہ ایک ڈیجیٹل رائٹس رجسٹری قائم کی جائے گی، جبکہ بچوں اور مرحوم فنکاروں کے حقوق کے لیے خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
اس قانون کے نافذ ہونے سے فنکاروں کو بہت فائدہ ہوگا۔ وہ اپنی تخلیقی اور کمرشل قدر کو محفوظ رکھ سکیں گے، جعلی مواد سے ہونے والے ذاتی نقصان سے بچیں گے، اور اے آئی کو تخلیقی ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بھی اپنے حقوق محفوظ رکھ سکیں گے۔ انڈسٹری میں اعتماد بڑھے گا، پروڈکشنز شفاف ہوں گی، اور پاکستان میں اے آئی ریگولیشن کی بنیاد پڑے گی۔
اس قانون کے بعد جو اس کی خلاف ورزی کرے گا، اس کو 3 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔ یہ سزائیں ڈیپ فیک بنانے، شیئر کرنے، جعلی انڈورسمنٹس کرنے یا بغیر اجازت آواز یا چہرہ استعمال کرنے والوں پر ہوں گی۔
یہ بل ابھی ڈرافٹ کے مرحلے میں ہے، جلد پنجاب اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد منظور ہوگا۔













