نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے مابین مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت طے پانے والے سمجھوتوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سفیر کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات، چین کا پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کا اعادہ
گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے اس اہم اتفاقِ رائے کو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے فروغ کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔ چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے اس موقع پر پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کی تعریف کی، جس کی بدولت ایران اور امریکا کے مابین مستقل رابطوں کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا۔ انہوں نے بین الاقوامی امن اور استحکام کے فروغ میں پاکستان کے اس اہم ترین کردار کو بھی سراہا ہے۔
Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 today held a telephone conversation with Member of the Political Bureau of the CPC Central Committee and Foreign Minister of China, Wang Yi.
The two leaders welcomed the understandings reached in… pic.twitter.com/RsPOUQzCnN
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 16, 2026
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور امریکا کے مابین بات چیت اور سفارتکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے چینی تعاون کی تعریف کی۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے چین کی مخلصانہ کوششوں، بالخصوص صدر شی جن پنگ کے چار نکاتی فارمولے اور پاک چین 5 نکاتی اقدام کا اعتراف بھی کیا۔
دونوں رہنماؤں نے فریقین کے مابین طے پانے والی تفہیم پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا اور تمام بقایا مسائل کے پرامن حل کے لیے مسلسل رابطے برقرار رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی معیشت، توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر بھی خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے، چینی وزیر خارجہ
رابطے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ چین پر بھی بات چیت کی اور اس دورے کے دوران طے پانے والے امور اور فیصلوں پر مضبوطی سے عمل درآمد
جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ‘سی پیک 2.0’ کے لیے مل کر کام کرنے اور دوطرفہ اقتصادی و سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ دونوں اطراف نے مشترکہ دلچسپی کے اہم دوطرفہ اور علاقائی معاملات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔













